شیعہ کا جنازہ پڑھانے والے کی امامت کا حکم - فتاویٰ جات |…

شیعہ کا جنازہ پڑھانے والے کی امامت کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ اہلِ سنت و الجماعت کے ایک مولوی نے جان بوجھ کر شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی ہے، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو شریعت نے کیا سزا رکھی ہے؟ جس دن اس مولوی نے شیعہ کا جنازہ پڑھایا ہے اسی دن سے عوام اہلِ سنت و الجماعت نے اس کو امامت سے علیحدہ کر دیا ہے، اب اگر اس امام کو دوبارہ رکھا جائے تو کس طرح رکھا جائے؟ اور عوام اہلِ سنت جنہوں نے اس جنازہ میں شرکت کیا، ان کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا شیعہ کے ساتھ کھانا پینا، شادی بیاہ موت زندگی، دوستانہ لین دین ان لوگوں سے جائز ہے یا نا جائز؟ اب یہ امام، اہلِ سنت سے معافی مانگتا ہے لیکن ابھی معافی وغیرہ کوئی نہیں دی گئی، آپ کے فتویٰ کے انتظار میں ہے۔ 

جواب: شیعہ کا نمازِ جنازہ پڑھانا جائز نہیں، آج کل کے شیعہ حضراتِ شیخینؓ کو سب بکنا ثواب خیال کرتے ہیں، اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کے متعلق افتراء باندھتے ہیں، اس لئے ان کے کفر پر ائمہ کرام کا اتفاق ہے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی برأت قرآن میں منصوص ہے، اس لئے افک کا قائل ہونا قرآنِ کریم کی آیات کا انکار ہے، جو بالاتفاق کفر ہے ایسے شخص کو جو جنازہ کی امامت کراتا ہے اس پر توبہ کرنا لازم ہے، اگر توبہ کر لیں اور یقین ہو جائے کہ وہ دل سے تائب ہوا ہے تو اس کی توبہ مقبول ہے، اسی طرح باقی شرکاء بھی توبہ کر لیں۔ باقی شیعوں کے ساتھ مودت دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کے دشمنوں کے ساتھ کیا دوستی ہو سکتی ہے۔ 

(فتاویٰ مفتی محمود: جلد3 صفحہ70)