سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے آپ کے اہل بیت
علی محمد محمد الصلابیسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے آپ کے اہل بیت:
1: سیدنا علیؓ کے فرزند ارجمند اور نواسۂ رسولﷺ حسن بن علی رضی اللہ عنہما۔
2: دوسرے فرزند اور نواسۂ رسول یعنی حسین بن علی رضی اللہ عنہما:
عاشورہ کے دن 61ھ میں آپ کی شہادت ہوئی، اس وقت آپ کی عمر 56 سال تھی۔
(تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 357)۔
3: آپ کے فرزند محمد بن علہ بن ابی طالب: ابوالقاسم المدنی جو کہ بنوحنیفہ سے تعلق رکھنے والی اپنی ماں خولہ بنت جعفر بن قیس کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ابن الحنفیہ کے نام سے مشہور ہیں۔ علامہ عجلی کا بیان ہے کہ آپ تابعی ہیں، ثقہ ہیں، نیک آدمی تھے، آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی، سیدنا عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت میں آپ کی ولادت ہوئی اور باختلاف روایات 73ھ یا 80ھ یا 81ھ یا 82ھ یا 93ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(تہذیب التہذیب: جلد 7 صفحہ 306)۔
4: آپ کے پوتے محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب: امام ابن حبان نے آپ کو ثقات میں ذکر کیا ہے۔
(تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 82)۔
5: دوسرے پوتے علی بن حسین بن علی بن ابی طالب: آپ زین العابدین کے لقب سے مشہور ہیں، اکابر تابعین میں سے ہیں، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام سلافہ بنت یزدگرد ہے، یعنی آخری شاہ فارس کی بیٹی تھیں، اپنے دادا علیؓ سے مرسلاً حدیث روایت کی ہے۔ علامہ عجلی کا بیان ہے کہ آپ مدنی ہیں اور ثقہ تابعی ہیں۔ 58 سال کی عمر میں 94ھ میں وفات ہوئی۔
(تہذیب التہذیب: جلد 12 صفحہ 481، لسان المیزان: جلد 7 صفحہ 533)۔
6: سیدنا علیؓ کے بھانجے جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب بن عمرو بن عائد بن عمران بن مخزوم: ماں کا نام ام ہانی بنت ابی طالب ہے، عہد رسالت میں آپ کی ولادت ہوئی اور رسول اللہﷺ کی صحبت کا شرف ملا، خراسان کے حاکم مقرر ہوئے، کوفہ میں سکونت اختیار کی۔ علامہ عجلی کا بیان ہے کہ آپ مدنی ہیں، اور ثقہ تابعی ہیں، سیدنا علیؓ سے احادیث روایت کیں۔
(تہذیب التہذیب: 10، صفحہ 10-11)۔
7: آپ کی باندی ام موسیٰ: جن کا نام باختلاف روایات فاختہ یا حبیبہ تھا، امام دار قطنی کا قول ہے کہ ان کی احادیث ٹھیک ٹھاک ہیں، عجلی کا قول ہے کہ کوفیہ ہیں اور ثقہ تابعیہ ہیں۔
(تہذیب التہذیب: جلد 12 صفحہ 19)۔