شیعوں کے بقول امام مہدی (بارہویں امام) بلاد مغرب میں آج بھی…

شیعوں کے بقول امام مہدی (بارہویں امام) بلاد مغرب میں آج بھی حکومت کر رہا ہے تذکرة الائمہ از ملا باقر مجلسی

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

پہلی عبارت امام مہدی کی پہلی حکومت کا واقعہ:

در کتاب نزعتہ الناظر مسطور است کہ امروز مکان حضرت الامر در جزائر مغرب است که آنرا علمیہ خوانند و ہریک از اولاد ذکور آنحضرت طاہر و قاسم در جزیرنہ از آن جزائر حاکم اند و موید ایں قول آنکہ در شام شہری ہست حزیں نام اوست سید صالح شیعہ از مردم آں ولایت است ایں فقیر را خبرد از کہ مادر مکہ بودیم شخصی را دیدم کہ در باز رمنی میگر دید و زری در دست میداشت و خواست کہ بفروشد و کسی از او ایں زر رانمی خرید بدو گفتم تو راچہ حالت است گفت چند درہم دارم و کسی از من نمی گیرد نمی دانم کہ چہ کنم؟ گفتم بمن بنمائی چوں نگاه کردم سکہ او ایں بود۔ 

الله ربنا و محمد نبینا و المهدی امامنا پر سیدم کہ تو از کجائی گفتا از بلاد مغربم درمیاں دریائے اخضر و مارا پادشاہیست کہ نام او مہدی است و ایں سکہ بنام مبارک او است و عمر بسیار دارد و من گفتم کہ کیست این مہدی و از کدام طائفہ است انگشت بلب گزاشت کہ حرف مزن اگر تو شیعہ ای میدانی من ازاں درہم الله اعلم زیادہ از او گرفتم و در عوض درہم شامی دادم و چون بولایت آوردم ہریک از دوستان برسم تبرک از من بردند۔  

(تذکرۃ الائمہ: صفحہ140، 141، ذکر اسامی وکلائے آنحضرت و جماعتی کہ آنحضرت را دیده اند، مطبوعہ تہران، طبع جدید)

ترجمہ: نزہتہ الناظر کتاب میں تحریر ہے کہ ان دنوں امام مہدی کا مکان مغربی جزیروں میں سے ایک جزیرہ میں ہے جسے علمیہ کہتے ہیں اور آنحضرتﷺ کے بیٹے طاہر اور قاسم ان جزیروں میں سے ایک جزیرہ پر حاکم ہیں اور اس بات کی تائید یوں ہے کہ ملک شام میں حزیں نامی ایک شہر ہے سید صالح شیعہ اس کا باشندہ ہے اس نے مجھے فقیر کو بتلایا کہ ہم ایک مرتبہ مکہ میں تھے کہ منیٰ کے بازار میں کہ ایک شخص کو دیکھا اور اس کے ہاتھ میں سونا تھا، جسے وہ بیچنا چاہتا تھا لیکن کوئی بھی وہ لینے کے لیے تیار نہ تھا۔ میں نے اس سے پوچھا تمہاری کیا حالت ہے کہنے لگا یہ چند درہم ہیں ان کا خریدار ہی کوئی نہیں ملتا میں نہیں جانتا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے یہ سن کر میں نے اسے کہا مجھے دکھاؤ جب میں نے ان دراہم کو دیکھا تو ان پر یہ عبارت کندہ تھی اللہ ہمارا رب ہے، محمد ہمارے نبی ہیں اور مہدی ہمارے امام ہیں میں نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ کہنے لگا میں بلادِ مغرب سے تعلق رکھتا ہوں جو دریائے اخضر کے درمیان واقع ہیں ہمارے بادشاہ کا نام مہدی ہے اور یہ سکہ ان کے مبارک نام سے چلتا ہے ان کی عمر بہت زیادہ ہے میں نے پوچھا وہ مہدی کن کے ہیں اور کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں؟ اس نے انگلی ہونٹوں پر رکھی اور کہا خاموش! اگر تو شیعہ ہے تو جان جائے گا خدا بہتر جانتا ہے میں نے اس سے نو یا دس درہم شامی درہموں کے عوض کیے اور جب اپنے ملک واپس پہنچا تو میرے دوستوں میں سے چند ایک نے بطورِ تبرک وہ درہم مجھ سے لے لیے۔