شیعہ کا جنازہ پڑھانے والے کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
سوال: ایک سنی امام جو کہ کم تعلیم رکھتا ہے اس کو اہلِ سنت و الجماعت کے چند آدمیوں نے کہا کہ شیعہ کا جنازہ سنی امام پڑھا سکتا ہے، اس امام کو اس مسئلے میں تحقیق نہیں تھی تو سنی امام نے مقتدیوں کے ساتھ شیعہ کا جنازہ پڑھایا اور اس جنازہ میں کوئی شیعہ شریک نہیں تھا اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ جنازہ پڑھانے والے سب کے نکاح ٹوٹ جاتے ہیں اور اس امام کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے، نہ یہ امام کسی کا نکاح پڑھا سکتا ہے جب تک کہ اپنا نکاح دوبارہ نہ کرائے، اس امام نے شیعہ کا جنازہ پڑھانے کے بعد امامت بھی کرائی ہے اور نکاح بھی پڑھاتے ہیں شرع میں کیا حکم ہے؟
جواب: شیعہ اگر امورِ دین میں سے کسی مسئلہ ضروریہ کا منکر ہو تو وہ کافر ہے اور ایسے شیعہ کا نمازِ جنازہ پڑھانا جائز نہیں، گناہ ہے لیکن جنازہ پڑھانے سے یا جنازہ میں شریک ہونے سے کسی کا نکاح نہیں ٹوٹتا، سب کے نکاح بدستور باقی ہیں امام نے لاعلمی میں ایسا کیا ہے، اس کو توبہ تائب ہو جانا چاہیے، اس کی امامت جائز ہے۔
(فتاویٰ مفتی محمود: جلد3 صفحہ66)
