امام مہدی کے بارے میں شیعہ کا تضاد ثابت ہو گیا - ردِ رافضیت…

امام مہدی کے بارے میں شیعہ کا تضاد ثابت ہو گیا

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

اس سے آپ پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ سیدنا مہدی یعنی بارہویں امام کے جس تصور اور عقیدے پر شیعہ مذہب کی ساری عمارت کھڑی ہے، اس کی بنیادیں منہدم ہو چکی ہیں اس کی ثقاہت و استناد کا دعویٰ خود انہی کی تصریحات سے مجروح ہو چکا ہے اس بنیادی عقیدے کو محمد بن یعقوب کلینی، ابنِ بابویہ قمی، شیخ طوسی، ملا باقر مجلسی کے بیان کردہ حقائق نے کچے دھاگے کی طرح توڑ پھینکا ہے شیعہ مجتہدین کے بیان کردہ حقائق کی روشنی میں سیدنا مہدی کی شخصیت کا ظہور تو کیا، اس کا وجود بھی شک و اضطراب کے خرمن میں راکھ ہو گیا ہے کسی روایت میں سیدنا حسن عسکریؒ کو لا ولد مانا گیا کہیں 21 سال کی عمر تک اس ننھے امام کو کپڑوں میں لپیٹا گیا، کہیں اس کے وجود کے اثبات کے لیے ان کی والدہ کے حمل کے حکومتوں اور قاضیوں سے فیصلے طلب کیے گئے کہیں اس کی غیبتِ صغریٰ اور رابطہ کے چار سفیروں کا نام لکھا گیا کسی جگہ ان کی غیبتِ کبریٰ کا راگ اپنے قلم سے الاپا گیا کہیں سیدنا مہدی کو سمندر کے جزیروں میں دکھایا گیا، کہیں اس کی سلطنت اور اس کے نام کے سکوں کا اجراء ثابت کیا گیا کسی جگہ یہ کہا گیا کہ سیدنا مہدی کا ظہور 70ھ میں ہوگا کہیں 140ھ میں بتلایا گیا کہیں ظہور کے بارے میں خدا تعالیٰ کو وعدوں سے منحرف قرار دیا گیا کہیں ظہورِ امام کے بارے میں سیدنا علیؓ کے اعلان کردہ تینوں وعدوں کو جھوٹ ثابت کیا گیا۔