شیعہ کی گزشتہ عبارتوں سے معلوم ہوا کہ سیدنا مہدی کی غیبتِ صغریٰ کی مدت تہتر یا چوہتر سالوں پر مشتمل تھی اس دوران وہ لوگوں کے سوالات کا جواب بھی دیتے رہے، تحائف اور نذرانے بھی قبول کرتے رہے مدت مقررہ گزرنے کے بعد ان کے چار وکیل یکے بعد دیگرے سائلین اور حاجت مندوں کی ضروریات کے حل کے لیے امام غائب اور سائلین کے درمیان وسیلہ بنے رہے لیکن امام نظر نہ آئے اور وکالت کا یہ سلسلہ 309 ھ تک قائم رہا اس کے بعد وکالت بھی ختم اور امام صاحب مستقل غائب اور اپنے نام لینے والوں سے بالکل روٹھے ہوئے کہیں چھپ گئے اب کسی سوال کا نہ کوئی جواب اور نہ کسی مشکلات میں گھرے شیعہ کی داد رسی اور مشکل کشائی، تہتر سال کے بعد ناراضگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا ابتداء میں وکیلوں کو ذریعہ بنایا، خود سامنے نہ آئے پھر وکیلوں کو بھی ہٹا دیا اور مسئلہ ہی ختم کر دیا۔
گویا زبان حال سے یہ فرمایا: جاؤ شیعو! تم اس قابل نہیں کہ میں یا میرا وکیل تم سے گفتگو کرے اور پھر انہی کی زبانی کہلوایا جو بھی ان چار وکلاء کے بعد میری وکالت کا دعویٰ کرے اسے پکا کافر سمجھنا کیا خوب منطق ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے نیک بندوں کے بارے میں حضورﷺ کو مخاطب فرما کر یہ وعدہ ہے:
وَلَـلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى۞
(سورۃ الضحیٰ: آیت 4)
ترجمہ: ان کا ہر آنے والا لمحہ پہلے سے بہتر ہوتا ہے۔
لیکن امام غائب کا معاملہ اہلِ تشیع نے الٹ کر دیا تہتر سال تک خود داد رسی اور زیارت سے مشرف کرتے رہے بعد میں خود سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہو گئے اور درمیان میں وکلاء کو واسطہ بنایا پھر وکلاء کے ذریعے بھی بات نہ بن سکی اور خود روپوش ہو گئے اب کوئی کسی قسم کی بات چیت اور تعلقات باقی نہیں رہے یعنی جوں جوں زمانہ غیبت بڑھتا جا رہا ہے، امام موصوف کی روحانی قوتوں میں اسی قدر کمی آ رہی ہے اور امام غائب اب شیعوں سے بالکل ناراض ہو کر چھپ کر بیٹھ گئے۔
اس افسانہ کا دوسرا پہلو یہ کہ امام غائب کی غیبت کے مسئلہ میں پہلے ان حواس باختہ اور نام نہاد محبوں نے سیدنا علیؓ کو بدنام کرنے کی ترکیب نکالی ان کے متعلق بتلایا وہ زمین کرید رہے تھے اور سیدنا مہدی کے بارے میں گہری سوچ میں تھے پوچھنے پر فرمایا کہ سیدنا مہدی کی غیبت اور حیرت نے حیرت زدہ کر دیا ہے سائل نے پوچھا امام موصوف کے غائب رہنے کا عرصہ ہے فرمایا چھ دن، چھ ماہ، چھ سال لیکن یہ تمام مدتیں ایک کر کے گزر گئیں لیکن امام نہ آیا اور نہ کوئی آثار نظر آئے آخری مدت چھ سال اگر چھ صدیوں پر مشتمل ہوتی تو بھی بات نہ بن سکی پندرہویں صدی جاری ہے اور امام تشریف نہیں لائے۔
(بحوالہ عقائد جعفریہ: جلد2 صفحہ 219)