مخلوق کی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے
علی محمد محمد الصلابیحضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا اوراس پر ایک امیر مقرر کر دیا، اس نے آگ کا الاؤ روشن کیا اور کہا: تم لوگ اس میں داخل ہو جاؤ، کچھ لوگوں نے اطاعت کرتے ہوئے داخل ہونے کا ارادہ کر لیا اور کچھ لوگوں نے کہا: ہم ایسا نہیں کریں گے، رسول اللہﷺ سے اس واقعہ کا ذکر ہوا، تو جن لوگوں نے داخل ہونے کا ارادہ کر لیا تھا، ان سے فرمایا: لَوْدَخَلْتُمُوْہَا لَمْ تَزَالُوْا فِیْہَا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ
’’اگر تم لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔‘‘
جب کہ دوسرے لوگوں کی تعریف کیا اور فرمایا:
لَا طَاعَۃِ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، إِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔
(مسند أحمد: الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث نمبر 724) اس کی سند صحیح ہے۔)
’’اللہ کی معصیت میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں، مخلوق کی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں جائز ہے۔‘‘
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حکام کی اطاعت مطلق اور بےقید نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ مقید ہے۔ مطلق اطاعت صرف اللہ اور رسول اللہﷺ کے لیے ہے۔