ظہور امام کے بارے میں شیعہ کا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ…

ظہور امام کے بارے میں شیعہ کا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر الزام

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ تین زمانے بھی غلط نکلے:

اصول کافی:  

عن الاصبغ بن بناتته قال اتيت امیر المومنين عليه السلام فوجدته متفكر اينكت فى الارض فقلت يا امير المومنين مالى اراك متفكرا تنكت فى الارض ارغبته منك فيها فقال لا والله ما رغبت فيها ولا فى الدنيا يوما قط و لكنى فكرت فى مولود يكون من ظهری احادی عشر من ولدی هو المهدی الذى يملا الارض عدلا وقسطا كما ملئت جورا و ظلما تكون له غيبته و خيره يضل فيها اقوام ويهتدى فيها اخرون فقلت يا امير المومنين و كم تكون الحيره والغيبه قال ستته ايام او سسته اشهرا و ست سنين۔  

(اصول کافی: جلد 1 صفحہ338، کتاب الحجہ، باب فی الغیبتہ، مطبوعہ تہران، طبع جدید)

ترجمہ: راوی کہتا ہے کہ میں نے ایک روز امیر المؤمنین کو متفکر دیکھا آپ لکڑی کی نوک سے زمین کرید رہے تھے میں نے کہا اے امیر المؤمنین میں آپ کو متفکر پا رہا ہوں کیا آپ کے دل میں رغبت سلطنت ہے؟ فرمایا نہیں میرے دل میں نہ کسی دن اس کی رغبت ہوئی ہے اور نہ دنیا کی سوچ رہا ہوں اس مولود کے بارے میں جو فرزند گیارہویں امام کی پشت سے ہوگا، اس کا نام مہدی ہوگا جو زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی اور ہوگی اس کے لیے غیبت اور حیرت اور کچھ لوگ ہدایت پائیں گے اور کچھ لوگ گمراہ ہو جائیں گے میں نے کہا اے امیر المؤمنین یہ حیرت اور غیبت کتنے دن رہے گی (تاکہ بعد اس کے مومنین کو اطمینان ہو) فرمایا بعض کو چھ دن، بعض کو چھ ماہ اور بعض چھ سال۔  

(کتاب الشافی ترجمہ اصول کافی: جلد1 صفحہ402، مطبوعہ کراچی)

کشف الغمہ میں ہے:  

وعن صالح بن میثم قال سمعت ابا جعفر عليه السلام يقول ليس بين القائم و قتل النفس الزكيه اكثر من خمس عشره ليله۔  

(کشف الغمہ: جلد2 صفحہ460، فی علامات قيام القائد، مطبوعہ تبریز، طبع جدید) 

(بحر الجواہر: صفحہ 463 مطبوعہ تہران)

ترجمہ: صالح بن میثم کہتا ہے کہ میں نے سیدنا محمد باقرؒ سے سنا فرماتے تھے کہ نفسِ زکیہ کی شہادت اور القائم (سیدنا مہدی) کے قیام و ظہور کے درمیان پندرہ دنوں سے زیادہ کا وقفہ نہ ہوگا۔