شیعہ کا خدا پر الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کا خدا پر الزام

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

بارہویں امام کے متعلق کیے گئے دو وعدوں میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک بھی پورا نہ کیا:

اصول کافی:  

عن ابی حمزه الثمالی قال سمعت ابا جعفر عليه السلام يقول يا ثابت ان الله تبارک و تعالىٰ قد كان وقت هذا الامر فى السبعين فلما قتل الحسين صلوات الله عليه اشتد غضب الله تعالىٰ على اهل الارض فاخره الى اربعين و مائه فحدثنا فاذعتم الحديث فكشفتم قناع السترولم يجعل له بعد ذلک وقتا عندنا ويمحو الله ما يشاء و يثبت و عنده ام الکتاب قال ابو جعفر فحدثت بذلك ابا عبد الله عليه السلام فقال قد كان كذلك۔  

(اصول کافی: جلد1 صفحہ368، کتاب الحجہ، باب كراهيت التوقيت، مطبوعہ تہران، طبع جدید)

ترجمہ: ابو حمزہ ثمالی کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا محمد باقرؒ کو سنا کہ فرماتے تھے اے ثابت اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر یعنی ظہورِ مہدی کا وقت 70 معین کیا تھا۔ جب سیدنا حسینؓ شہید ہوئے تو خدا کا غضب اہلِ زمین پر سخت ہو گیا پس اسے 140 تک مؤخر کر دیا ہم نے تم کو بتا دیا مگر تم نے ہماری حکایت کو فاش کر دیا اور ہماری ستر کے پردے کو پھاڑ دیا اس کے بعد خدا نے ہمارے نزدیک کوئی وقت مقرر نہیں کیا خدا مٹاتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے جو چاہتا ہے اور اس کے پاس اصل کتاب ہے ابو حمزہ کا قول ہے کہ میں نے اس حدیث کی حکایت سیدنا جعفر صادقؒ سے کی انہوں نے فرمایا کہ بے شک ایسا ہی تھا