رافضی امام کے پیچھے نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص ایک کافر کے پیچھے نمازِ جنازہ پڑھتا ہے کیا اس شخص کو دوبارہ مسلمان ہونے کے لیے کلمہ پڑھنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ نیز اس کا نکاح بھی ٹوٹ گیا یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔
جواب:صورتِ مرقومہ میں کافر کے پیچھے نماز پڑھنا شرعاً جائز نہیں اگر کسی نے کافر کے پیچھے جائز سمجھتے ہوئے نمازِ جنازہ پڑھی تو اس پر تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح لازم ہے، اور اگر کسی نے محض جہالت کی وجہ سے نماز پڑھی تو اس نے گناہ کا کام کیا، اس پر توبہ استغفار لازم ہے۔
وقیدہ فی المحیط والخلاصة والمجتبى وغیرھا بان لا تکون بدعتہ تکفرہ فان کانت تکفرہ فی الصلوٰة خلفہ لا تجوز و عبارة الخلاصة ھکذا وفی الاصل الاقتداء باہل الاھواء جائز الا الجھمیة والقدریة والروافض الغالی الخ۔
(البحر الرائق: جلد1 صفحہ611)
یکرہ تقدیم المبتدع ایضا والمراد بالمبتدع من یعتقد شیئا على خلاف ما یعتقدہ اہل السنة والجماعة وانما تجوز الاقتداء بہ مع الکراہة اذا لم یکن ما یعتقدہ یؤدی الی الكفر عند اہل السنة اما لو کان مؤدیا الی الكفر فلا یجوز اصلا كالغلاة من الروافض الذین یدعون الالوہیة لعلی۔
(الحلبی کبیری: صفحہ443)
ارشاد المفتین: جلد3 صفحہ341)
