شیعہ کے امام مہدی یعنی (بارہویں امام) کی غیبت صغریٰ اور ان…

شیعہ کے امام مہدی یعنی (بارہویں امام) کی غیبت صغریٰ اور ان کے وکلاء کا تذکرہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

ملا باقر مجلسی کی کتاب تذکرۃ الائمہ کی اصل عبارت:  

بسند صحیح مروی است کہ امام حسن عسکری آنحضرت را بخواص شیعیان خود مینمود و ازاں حضرت مسائل می پر سیدند و آنحضرت مسیح و ار جواب می داد و مشکلات ایشان را حل می نمود تا مدت ہفتاد و سه سال آنحضرت بشیعیان خود می رسانند و این ہفتاد و سہ سال را غیبت صغریٰ می گویند بعد ازان غیبت کبریٰ آنحضرت است وکلاء ثابت الوکالتہ آنحضرت جهار نفر بودند اول ایشان عثمان بن سعد عمر انست کہ امام حسن او را وکیل گردانید و بعد از او پسرش وکیل بود محمد بن عثمان چون وفات محمد بن ثمان نزدیک شد جماعت بسیار از اکابر و شیعه برسرش ریختند و گفتند بعد از تو وکیل چہ کس خواهد بود در جواب گفت کہ بعد از من وکیل حسین بن روح نوبختی است چون وفات حسین نزدیک شد، بیان نمود کہ بعد ازاں وکیل علی بن محمد سمر یست و چون علی بن محمد را وفات نزدیک شد، علماء و اکابر شیعہ بوے گفتند کہ بکسی وصیت نما در جواب گفت که امر هو بالغہ و بکسی وصیت نہ کرد و ایشان را خبرد اوکہ بعد از من وکیل نخواہد بود و آن در سنہ سیصد ونہ ہجری بود کہ وفات یافت و ہرکہ بعد از ثمری ادعائے وکالت نمود اکابر شیعہ آں را کافر می دانند۔  

(تذکرۃ الائمہ مصنفہ ملا باقر مجلسی: صفحہ 139، اسامی وکلاء آنحضرت، مطبوعہ تہران، طبع جدید)

ترجمہ: صحیح سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے کہ سیدنا حسن عسکریؒ نے سیدنا مہدی کو صرف مخصوص شیعوں کے لیے ظاہر کیا لوگ ان سے سوال پوچھا کرتے اور وہ انہیں مسیحانہ طور پر جوابات دیا کرتے اور ان کی مشکلات حل فرمایا کرتے اور یہ سلسلہ 73 سال تک جاری رہا اس 73 سالہ عرصہ کو غیبتِ صغریٰ کہا جاتا ہے اس کے بعد کا زمانہ غیبتِ کبریٰ ہے سیدنا مہدی کے اس زمانہ میں چار وکیل تھے جن کی وکالت ثابت تھی ان میں سے پہلے وکیل عثمان بن سعد عمران تھا کہ جسے سیدنا حسن عسکریؒ نے وکیل مقرر کیا تھا اس کے بعد اس کا بیٹا محمد بن عثمان وکیل بنا جب محمد بن عثمان کے انتقال کا وقت قریب آیا تو بڑے بڑے شیعہ اس کے پاس آئے اور پوچھا آپ کے بعد وکالت کس کی ہوگی؟ کہا میرے بعد حسین بن روح نوبختی وکیل ہوگا جب حسین بن روح کی وفات آگئی تو کہا میرے بعد علی بن محمد ثمری ہوگا جب اس وکیل کا وقت مرگ قریب ہوا تو شیعہ اکابر نے اس سے پوچھا کہ کسی کے حق میں وصیت کر جاؤ جواب دیا امر سبھی اللہ ہی کا ہے وہ اس کو صحیح مقام پر پہنچانے والا ہے یہ کہہ کر وصیت نہ کی اور کہا کہ میرے بعد وکیل نہیں ہوگا یہ واقعہ 309 ھ کا تھا جس میں اس کی وفات ہوئی۔ اب جو شخص ثمری کے بعد وکالت کا دعویٰ کرے گا، اکابر شیعہ اس کو کافر سمجھتے ہیں۔