سیدنا حسن عسکری رحمۃاللہ کے لڑکے کا نہ حمل ثابت ہونا نہ…

سیدنا حسن عسکری رحمۃاللہ کے لڑکے کا نہ حمل ثابت ہونا نہ ولادت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

ترجمہ: بے شک تحقیق خلیفہ معتمد علی اللہ اور اس کے یاروں پر سیدنا حسن کی وفات کے بعد ایک واقعہ وقوع میں آیا کہ جس سے میں نے تعجب کیا مجھے گمان نہ تھا کہ وہ واقعہ وقوع میں آئے گا وہ یہ کہ جب سیدنا حسن بیمار ہوئے تو بادشاہ نے میرے باپ عبید اللہ وزیر کو بلا بھیجا کہ ابنِ رضا یعنی سیدنا حسن عسکریؒ بے شک بیمار ہو گئے پس میرا باپ اسی وقت سوار ہو کر جلدی خلیفہ کے گھر پہنچا اور پھر جلدی واپس آیا اور اس کے ساتھ امیر المومنین معتمد علی اللہ کے پانچ نوکر تھے جو اس کے ثقات و خواص میں سے تھے ان پانچوں میں نحریر بھی تھا میرے باپ نے ان کو حکم دیا کہ سیدنا حسن عسکریؒ کے گھر کے دروازے پر حاضر رہو اور اس کی خبر رکھو اور اس کا حال دریافت کرتے رہو اور طبیبان حاذق کی ایک جماعت کو بلوا کر حکم دیا کہ سیدنا حسن عسکریؒ کے پاس آمد و رفت رکھو اور صبح و شام ان کی خبر لیتے رہو جب اس پر دو تین روز گزر گئے تو میرے باپ کو خبر دی گئی کہ حسن کمزور ہو گئے ہیں پس آپ نے ان طبیبوں کو حکم دیا کہ حسن کے گھر کے دروازے پر حاضر رہو اور قاضی القضاہ کو بلا بھیجا اور اس کو اپنی مجلس میں حاضر کر کے حکم دیا کہ تم اپنے یاروں میں سے ایسے دس شخصوں کا انتخاب کر لو جن کی دیانت و امانت اور پرہیزگاری پر لوگوں کو اعتماد ہو قاضی نے ایسے اشخاص کو حاضر کیا میرے باپ نے قاضی کو ان کے ساتھ سیدنا حسن عسکریؒ کے گھر کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ رات دن ان کے پاس حاضر رہو وہیں حاضر رہے یہاں تک کہ سیدنا حسن عسکریؒ نے وفات پائی اور سرمن رای نالہ و فغان بن گیا۔

خلیفہ معتمد نے امام موصوف کے گھر میں ایک جماعت کو بھیجا جنہوں نے گھر کی اور حجروں کی تلاشی لی اور جو کچھ گھر میں تھا، اس پر مہر لگا دی اور حسن کے لڑکے کے لیے جستجو کی اور وہ عورتیں بلائی گئیں جو حمل کی شناخت کر سکتی تھیں وہ امام کی کنیزوں پر داخل ہو گئیں اور انہیں دیکھتی تھیں بعض عورتوں نے ذکر کیا کہ یہاں ایک کنیز ہے جس کو حمل ہے وہ کنیز حجرے میں بند کر دی گئی اور اس پر نحریر خادم اور اس کے ساتھی اور عورتیں مقرر کر دی گئیں۔

بعد ازاں غسل و کفن کی تیاری کی گئی اور بازار بند ہو گئے اور بنو ہاشم یعنی اولادِ علی و اولادِ عباس اور سرداروں اور محرروں اور قاضیوں اور مسلم العدالت لوگوں کو دکھایا اور کہا کہ یہ سیدنا حسن بن علی بن محمد بن رضاؒ ہیں جو اپنی اجل سے اس بستر پر مرے ہیں موت کے وقت آپ کے پاس امیر المومنین کے خدام ثقات میں سے فلاں فلاں اور قاضیوں میں سے فلاں اور فلاں اور طبیبان حاذق میں سے فلاں اور فلاں حاضر تھے بعد ازاں آپ کا منہ ڈھانپ دیا گیا اور جنازے کے اٹھائے جانے کا حکم دیا پس گھر کے صحن سے اٹھایا گیا اور اس گھر میں دفن کیے گئے جس میں ان کے والد مدفون تھے۔

جب دفن ہو چکے تو خلیفہ اور لوگ حسن کے بیٹے کے لیے جستجو کرنے لگے اور کنیزوں کے مکانوں اور لوگوں کے گھروں کی خوب تلاشی لی اور امام کی میراث کے تقسیم کرنے میں توقف کیا وہ لوگ جن کے سپرد اس کنیز کی نگہبانی تھی، جس پر حمل کا وہم تھا، برابر حاضر رہے یہاں تک کہ ظاہر ہو گیا کہ حمل نہیں ہے جب امام کی کنیزوں سے حمل کا خیال باطل ہو گیا تو امام کی میراث ان کی والدہ اور ان کے بھائی جعفر میں تقسیم کی گئی اور ان کی ماں نے جعفر کے وصی ہونے کا دعویٰ کیا اور وہ قاضی کے نزدیک ثابت ہو گیا۔

یادداشت از مولف:

اصول کافی کی دونوں عبارتوں سے یہ باتیں صاف معلوم ہو گئیں:  

1: قاضیوں کے سامنے ثابت ہوا کہ سیدنا مہدی کی والدہ کو کوئی حمل نہ تھا نہ ہی کوئی لڑکا پیدا ہوا۔  

2: ڈھکی ہوئی خفیہ چیز ایک خوبصورت لڑکا تھا جس کی عمر 21 سال تھی یا چودہ سال یا دو سال۔  

3: سیدنا حسن عسکریؒ لا ولد فوت ہوئے اس لیے ان کی وراثت ان کے بھائی جعفر میں تقسیم ہوئی۔