آپ صلی الله عليه وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
علی محمد محمد الصلابی5۔آپ صلی الله عليه وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
امیر المؤمنین علیؓ کا بیان ہے کہ ’’رسول اللہﷺ نہ زیادہ دراز قد تھے نہ ہی پست قامت، بلکہ درمیانہ قد، ہتھیلیاں اور پاؤں پُراز گوشت، چہرہ سفید سرخی مائل، سینہ پر ناف تک بالوں کی ہلکی لکیر، اعضاء کے جوڑوں کی ہڈیاں بڑی اور مضبوط، چلتے تو قدم جما کر اور قدرے جھک کر چلتے، گویا کسی ڈھلوان سے اتر رہے ہیں، میں نے آپﷺ سے پہلے اور بعد میں کوئی آپﷺ سا نہیں دیکھا۔‘‘
(مسند أحمد: تحقیق أحمد شاکر: جلد 2 صفحہ 107، اس کی سند صحیح ہے۔)
شیخ البانی نے بھی صحیح ترمذی میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اور محمد بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا سر بڑا اور دونوں آنکھوں کا خانہ لمبا تھا، پلکیں دراز و آبرو پیوست، آنکھوں کے سفید حصہ میں سرخ ڈورے، گھنی داڑھی، لال رنگ، جسم، ہاتھ اور قدم پر گوشت، چلتے تو گویا قوت سے قدم کو آگے بڑھاتے، آگے چلتے یا پیچھے مڑتے تو مکمل طور پر۔
(مسند أحمد: تحقیق احمد شاکر: جلد 2 صفحہ 130 اس کی سند صحیح ہے۔)
حضرت علیؓ کے صاحبزادے محمد کا کہنا ہے کہ سیدنا علیؓ جب رسول اللہﷺ کے حلیہ مبارک کا ذکر کرتے تو کہتے: رسول اللہﷺ نہ تو پست قامت تھے اور نہ ہی دراز قد، بلکہ درمیانہ قد، بال نہ زیادہ پیچ دار اور نہ بالکل کھڑے کھڑے، بدن گٹھا ہوا، نہ تو بہت فربہ اور نہ بالکل گول چہرہ، بلکہ کسی قدر گولائی لیے ہوئے، رنگ سفید، ہتھیلیاں پُرگوشت، پنڈلیاں موٹی اور گداز، قدم جما کر چلتے گویا کسی اونچائی سے اتر رہے ہوں اور پیچھے مڑتے تو مکمل طور پر۔
(سنن الترمذی: المناقب: جلد 5 صفحہ 599، حسن غریب، اس کی سند غیرمتصل ہے۔)
رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد بھی حضرت علیؓ نے آپﷺ کے جسم اطہر کے کچھ ایسے اوصاف بتائے جنھیں ان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا، ہاں ممکن ہے کہ جو لوگ (مثلاً عباس، فضل، قثم بن عباس وغیرہ، جو آپﷺ کے جسم کو الٹتے تھے۔) نبی اکرمﷺ کو غسل دینے میں شریک تھے، انھیں اس کا علم رہا ہو، آپ فرماتے ہیں: ’’میں نے میت رسول کو غسل دیا، میں آپ کے جسم اطہر کو بغور دیکھتا کہ شاید عام لوگوں کو موت کے وقت نجاست وغیرہ لگنے کا جواندیشہ ہوتا ہے آپﷺ کو بھی ہو، لیکن مجھے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی، آپﷺ زندگی اور موت دونوں حالتوں میں پاک صاف تھے۔‘‘
(صحیح سنن ابن ماجہ: ألبانی: جلد 1 صفحہ 247،المستدرک: الحاکم: جلد 3 صفحہ 59، الفاظ مستدرک حاکم کے ہیں۔)
حضرت علیؓ غسل دیتے ہوئے فرماتے تھے:
’’آپﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپ زندگی اور موت دونوں حالتوں میں کتنے پاکیزہ اور صاف ستھرے ہیں۔‘‘
(السیرۃ النبویۃ: ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 662)۔