لاعلمی میں رافضی کا جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص کا جنازہ پڑھا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ رافضی تھا اب کیا حکم ہے؟
جواب: اپنی کوشش سے مرنے والے کے متعلق معلومات کریں اور کفریہ عقائد رکھنے والے کا جنازہ نہ پڑھیں ماضی میں اگر ایسا ہو چکا ہے تو اس پر استغفار کریں۔
فنقول لا یصلى على الكافر۔
(فتاویٰ التاتار خانیہ: جلد، 2 صفحہ، 122)
وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ الخ۔
(سورة التوبہ: آیت 84)
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ الخ۔
(سورة التوبہ: آیت 113)
(ارشاد المفتین: جلد 5 صفحہ171)
