شیعہ کے امام مہدی کی پیدائش کے بارے میں طویل مضمون کا خلاصہ…

شیعہ کے امام مہدی کی پیدائش کے بارے میں طویل مضمون کا خلاصہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

شیعہ مذہب کی اساسی کتاب کی چند اصل عبارات:

امام مہدی بچپن میں پردوں میں چھپائے گئے:

اصول کافی میں ہے:  

علی بن محمد نے کہا کہ بیان کیا مجھ سے محمد اور حسن نے کہ علی بن ابراہیم نے 279 ھ میں بیان کیا کہ مجھ سے ان دونوں نے کہا کہ بیان کیا ہم سے محمد بن علی بن عبد الرحمٰن بن عبدی بن عبد قیس سے اس نے ضوء بن عجلی سے، اس نے ایک مرد فارسی سے، جس کا اس نے نام بتایا کہ میں سامرہ میں سیدنا حسن عسکریؒ کے دروازہ پر آیا آپ نے میرے بغیر اذن طلب کیے مجھے بلایا جب میں داخل ہوا اور سلام کیا تو فرمایا اے فلاں تیرا کیا حال ہے؟ بیٹھ جا پھر آپ نے میرے خاندان کے مردوں اور عورتوں کا حال پوچھا پھر فرمایا تم کس غرض سے آئے ہو میں نے کہا آپ کی خدمت میں رہنے کے لیے فرمایا اچھا تم اس گھر میں رہو چنانچہ میں حضرت کے نوکروں کے ساتھ رہنے لگا میرا کام یہ تھا کہ سودا سلف بازار سے خرید لاتا اور میں بغیر اذن حضرت کی خدمت میں حاضر ہو جاتا تھا جب آپ مردانے حصے میں ہوتے تھے ایک دن میں نے گھر کے اندر حرکت سنی حضرت کی آواز آئی ٹھہر جا یہ سن کر میری ہمت نہ ہوئی کہ باہر نکلوں اور نہ اندر آ سکوں پھر ایک کنیز نکلی جس کے پاس ایک ڈھکی ہوئی چیز تھی حضرت نے مجھ سے فرمایا آ جاؤ میں داخل ہوا آپ نے کنیز کو پکارا اور فرمایا:  

نہایت مضحکہ خیز روایت:

اكشفى عما معك فكشفت عن غلام ابيض حسن الوجه وكشفت عن بطنه فاذا شعر نابت من لبته الى سرته اخضر ليس باسود فقال هذا صاحبكم ثم امرها فعملته فما رايته بعد ذلك حتىٰ مضى ابو محمد  

فقال ضوء بن علی قلت للفارسی كم كنت تقدر له من السنين قال سنتين قال العبدى فقلت يضوءكم قدر له انت قال اربع عشره سنه قال ابو علی و ابو عبد الله و نحن نقدر له احدی و عشرین سنه۔  

(اصول کافی: جلد1 صفحہ515، کتاب الحجہ، باب مولد الصاحب علیہ السلام، مطبوعہ تہران، طبع جدید)  

(کتاب الشافی ترجمہ اصول کافی: جلد1 صفحہ 646 کتاب الحجہ، باب ذکر صاحب امر علیہ السلام، مطبوعہ کراچی)

ترجمہ: یعنی جو کچھ تیرے پاس ہے، اسے کھول دے اس نے کھولا تو وہ ایک نہایت خوبصورت صاحبزادے تھے فرمایا کہ ان کے شکم کو بھی کھول دو میں نے دیکھا کہ سینہ سے ناف تک سبز بال تھے کالا بال کوئی نہ تھا مجھ سے فرمایا یہ تمہارے امام ہیں اس کے بعد کنیز اٹھا کر لے گئی اس کے بعد میں نے امام کی وفات تک پھر کبھی ان کو نہ دیکھا ضوء بن علی نے ان سے پوچھا تم نے ان کی عمر کا کیا اندازہ کیا کہا دو سال عبدی نے کہا میں نے ضوء سے پوچھا تمہارا کیا اندازہ ہے کہا چودہ سال اور ابو علی اور ابو عبداللہ نے کہا ہمارا اندازہ اکیس سال ہے۔