طریقۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے التزام کی رغبت دلانا
علی محمد محمد الصلابی3۔ طریقۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے التزام کی رغبت دلانا:
حضرت علیؓ تمام لوگوں کو نبی کریمﷺ کی طرز زندگی اپنانے کی رغبت دلاتے تھے، چنانچہ مقام ربذہ پر خطبہ دیتے ہوئے سیدنا علیؓ نے فرمایا:
’’اپنے دین کو لازم پکڑو، اپنے نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلو، آپﷺ کی سنتوں کا اتباع کرو، قرآن کی متشابہات سے بچو، جسے قرآن معروف کہے اسے مان لو اور جسے منکر کہے اسے چھوڑ دو۔‘‘ (معجم البلدان: جلد 3 صفحہ 24۔)
جب حضرت علیؓ خوارج کی جنگ سے واپس ہوئے تو اپنے ساتھیوں کے درمیان بڑا بلیغ، نفع بخش اور خیر کثیر پر مشتمل خطبہ دیا، اس میں حضرت علیؓ نے طریقۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے التزام پر بہت زور دیا اور فرمایا:
’’اپنے نبی کریمﷺ کے طریقہ کو اپناؤ، وہی سب سے افضل طریقہ ہے، آپﷺ کی سنتوں پر عمل کرو، وہی سب سے افضل سنت ہے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 319)۔
حضرت علیؓ کے ایامِ خلافت میں نمودار ہونے والے داخلی فتن آپ کو خیر کی طرف دعوت دینے اور برائیوں و بدعات سے روکنے کے راستہ میں کبھی رکاوٹ نہ بن سکے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 319)۔
اس سلسلہ میں حضرت علیؓ نے فرمایا:
’’سب سے بہتر کام ثابت شدہ پختہ امور ہیں اور سب سے بدترین کام ایجاد کردہ بدعات ہیں، دین میں نکالی ہوئی ہر نئی چیز بدعت ہے، اس کا ایجاد کرنے والا بدعتی ہے، جس نے بدعت کو ایجاد کیا وہ برباد ہوا، کسی بدعتی نے اگر کوئی بدعت نکالی تو اس کے بالمقابل اس نے کسی سنت کو ضرور چھوڑا۔''
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 262)۔