وقت کے خلیفہ معتمد نے سیدنا حسن عسکریؒ کی وفات کے وقت ہر ممکن تدبیر اختیار کی تاکہ ان کے کسی جانشین کا علم ہو سکے یہاں تک کہ حمل کے شبہ کی صورت میں میراث تقسیم کرنے سے روک دی گئی اور پھر یہ شبہ باطل ٹھہرا اور میراث تقسیم ہوئی سیدنا حسن عسکریؒ کی والدہ ماجدہ جو ایک ولیہ کاملہ تھیں، انہوں نے خلیفہ وقت کے مقرر کردہ قاضی کے سامنے پیش ہو کر اپنے اس بیان کی تصدیق کے طور پر کچھ دلائل پیش کیے کہ مرنے والے سیدنا حسن عسکریؒ کا وصی ان کا بھائی جعفر ہے قاضی نے دلائل اور شواہد کی بنیاد پر اس کو تسلیم کر لیا کیا ایسی نیک بخت اور تقویٰ سے مزین عورت یہ نہ جانتی تھی کہ مرنے والے کا ایک بیٹا ہے جو حقیقت میں ان کی جگہ امام اور وصی ہے؟ اور پھر جب خلیفہ وقت اور اس کے مقرر کردہ آدمیوں نے پوری چھان بین کے بعد فیصلہ کیا کہ سیدنا حسن عسکریؒ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں حالانکہ وہ اس کھوج میں تھے کہ کہیں سے کوئی اس بارے میں بات ہاتھ آئے، ہر طرف سے مایوسی اور سیدنا حسن عسکریؒ کی والدہ کے دعویٰ میں باہم اتفاق تھا تو قاضی نے جناب جعفرؒ کے وصی ہونے کا فیصلہ دے دیا تو معلوم ہوا کہ سیدنا مہدی نہ تو خود ابھی پیدا ہوئے نہ ہی ان کی والدہ اور والد کا کہیں وجود ہوا ہے بموجب احادیث قربِ قیامت ان کا اپنے والدین کے ہاں تولد ہوگا نہ وہ کہیں غائب ہیں، نہ کہیں اس زمانہ میں ان کا وجود اس لیے امام غائب اور امام زمانہ یا صاحب الزمان کے نام سے جو اہلِ تشیع نے سیدنا مہدی کے لیے گھڑ رکھے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں شیخ چلی کی سی کہانیوں کی طرح یہ بھی ایک افسانہ ہے اور دھوکہ دہی بلکہ دھوکہ خوردنی کا ایک عظیم اور بہت بڑا اسباب ہے جب پیدائش ہی نہیں ہوئی تو غائب کہاں ہو گئے۔
(عقائد جعفریہ: جلد2 صفحہ210)