منکرین امامت کے بارے میں شیعوں کا فتویٰ - ردِ رافضیت | دفاع…

منکرین امامت کے بارے میں شیعوں کا فتویٰ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

میں مسئلہ امامت کی تیسری بحث کے تیسرے عقیدے میں ذکر کر چکا ہوں کہ امامیہ کے نزدیک امامت کا منکر کافر اور ناری ہے یہاں اصولِ کافی کی دو روایتیں مزید پڑھ لیں:

1: محمد بن يحيىٰ عن عبد الله بن محمد بن عيسىٰ عن علی بن الحكم عن أبان الفضيل عن أبی عبد الله قال من اعدى الإمامة وليس من أهلها فهو كافر۔  

(اصولِ کافی: جلد 1 صفحہ372) 

ترجمہ: فضیل کہتے ہیں کہ سیدنا صادقؒ نے فرمایا کہ جس شخص نے امامت کا دعویٰ کیا اور وہ اس کا اہل نہیں تھا، وہ کافر ہے۔

2: الحسين بن محمد عن معلى بن محمد عن محمد عن محمد بن جمهور عن عبد الله بن الرحمٰن عن الحسين بن المختار قال قلت لأبی عبد الله جعلت فداك ويوم سائری الذين كذبوا على الله؟ قال كل من زعم أنه إمام وليس بإمام، قلت وإن كان فاطميا علويا؟ قال وإن كان فاطميا علويا۔  

(اصولِ کافی: جلد1 صفحہ372)  

ترجمہ: حسین بن مختار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا صادقؒ سے پوچھا کہ اس آیت کا مصداق کون ہے؟ اور تم قیامت کے دن دیکھو گے کے جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ان کے منہ کالے ہوں گے امام نے فرمایا کہ آیت کا مصداق ہر وہ شخص ہے کہ جس نے امامت کا دعویٰ کیا حالانکہ وہ امام نہیں میں نے کہا خواہ حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کی اولاد میں سے ہو؟ فرمایا خواہ حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کی اولاد ہو۔

گویا شیعہ عقیدے کے مطابق سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی وہ تمام اولاد جو اس کے خود ساختہ عقیدہ امامت کی منکر تھی، وہ کافر ہے اور قیامت کے دن ان کے منہ کالے ہوں گے۔

اس پر اکتفاء نہیں بلکہ شیعوں کے نزدیک منکرین امامت حرام زادے ہیں کلینی نے روضہ کافی کی روایت نمبر 431 میں سیدنا باقرؒ کی حدیث نقل کی ہے:  

431: علی بن محمد عن علی بن العباس عن الحسن بن عبد الرحمٰن عالم بن حميد عن ابی حمزه عن ابی جعفر قال و الله يا ابا حمزه ان الناس كلهم اولاد بغايا ما خلا شيعتنا۔  

(روضہ کافی) 

ترجمہ: اللہ کی قسم! اے ابو حمزه! لوگ سب کے سب بدکار عورتوں کی اولاد ہیں سوائے ہمارے شیعوں کے۔

علامہ مجلسی کی بحار الانوار میں ایک باب کا عنوان ہے:  

ان حبهم عليهم السلام علامه طيب الولادة وبعضهم علامة خبث الولادہ۔  

ترجمہ: ائمہ سے محبت رکھنا ولادت کے پاک ہونے کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا ولادت کے ناپاک ہونے کی علامت ہے۔

اس باب میں 31 روایتیں ذکر کی ہیں جن کا خلاصہ یہی ہے کہ شیعوں کا نسب پاک ہے اور جو لوگ امامت کے منکر ہیں ان کا نسب ناپاک ہے اس سے شیعوں کی اہلِ بیتؓ سے محبت کا اندازہ ہو جاتا ہے مسئلہ امامت کی آڑ میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تو سوائے دو چار کے کافر و ظالم کہتے ہی تھے لیکن اس نظریے کی وجہ سے اب اماموں کی اولاد کو بھی نعوذ بالله ولد الحرام قرار دیتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے ذرا بھی عقل نصیب فرمائی ہو تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ شیعہ اہلِ بیتؓ کے کتنے بڑے مخالف ہیں۔