شیعہ کافر ہیں، ان کے جنازے میں شرکت حرام ہے - فتاویٰ جات |…

شیعہ کافر ہیں، ان کے جنازے میں شرکت حرام ہے


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: آیا علماءِ دیوبند کا متفقہ فیصلہ ہے کہ شیعہ کافر ہیں؟ 

جواب: اس بات پر نہ صرف علمائے دیوبند کا متفقہ فیصلہ ہے بلکہ بریلوی مکتبہ فکر سے مولانا احمد رضا خان بریلوی اور اہلِ حدیثوں میں سے علامہ احسان الٰہی ظہیر جیسے علماء کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شیعہ صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کا انکار کرے یا حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شان میں گستاخی کرے یا تحریفِ قرآن کا قائل ہو، وہ کافر ہے۔ 

عن الخلاصة ان الرافضی اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر وان كان يفضل عليا فهو مبتدع۔ 

(فتاویٰ شامی: جلد، 3 صفحہ، 321) 

پاکستان میں موجودہ شیعہ اثناءِ عشریہ جعفریہ: من حیث الفرق على الاطلاق اپنے کفریہ عقائد کی وجہ سے کافر ہیں، ان سے نکاح اور موالات حرام ہے، ان کے جنازے میں شرکت بھی حرام ہے، جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ 

و یجب تکفیر الروافض فی قولھم برجعة الاموات الی الدنیا و بتناسخ الارواح و بانتقال روح الالہ الی الائمة وبقولھم فی خروج امام باطن وبتعطیلھم الامر والنھی الی ان یخرج الامام الباطن وبقولھم ان جبرئیل علیہ السلام غلط فی الوحی الی محمد دون علی بن ابی طالب وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذا فی الظھیریة

(فتاویٰ تاتار خانیہ: جلد5 صفحہ365)

من سب الشیخین او طعن فیھما کفر، نعم فی البزازیة عن الخلاصة ان الرافضی ان کان یسب الشیخین ویلعنھما فهو کافر نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدة عائشة وانکر صحبة الصدیق او اعتقد الالوھیة فی علی او ان جبرئیل غلط فی الوحی او نحو ذلك من الكفر الصریح المخالف للقرآن ولکن لو تاب تقبل توبتہ۔

(در مختار مع الشامی: جلد، 3 صفحہ، 321) 

فلذا اجمع علماء الاعصار على اباحة قتلھم وان من شک فی کفرھم کان کافرا۔

(رسائل ابنِ عابدین: جلد1 صفحہ 369)

ارشاد المفتین: جلد2 صفحہ 130)