سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور مقام نبوت
علی محمد محمد الصلابیاللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور جنات پر، جن تک نبی کریمﷺ کی رسالت پہنچی ہو، یہ واجب کر دیا ہے کہ وہ آپﷺ اور آپ کی رسالت پر ایمان لائیں۔ جس پر قرآنی نصوص شاہد ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ پر ایمان کے وجوب کو اپنے اوپر ایمان کے ساتھ ذکر کر کے مزید مؤکد قرار دیا ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:
قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّىۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعَاْالَّذِىۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِلَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِىِّ الۡاُمِّىِّ الَّذِىۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ۞ (سورۃ الأعراف آیت 158)
ترجمہ: (اے رسول ان سے) کہو کہ: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی اور موت دیتا ہے۔ اب تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ جو نبی امّی ہے، اور جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کی پیروی کرو تاکہ تمہیں ہدایت حاصل ہو۔
اور نبی کریمﷺ نے فرمایا:
وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَا یَسْمَعُ بِیْ اَحَدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ یَہُوْدِيٌّ وَ لَانَصْرَانِيٌّ ثُمَّ یَمُوْتُ وَ لَمْ یُوْمِنْ بِالَّذِيْ اُرْسِلْتُ بِہِ إِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔
(صحیح مسلم: کتاب الإیمان: جلد 1 صفحہ 93)۔
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اس امت کا کوئی یہودی اور نصرانی میرے بارے میں سنتا ہے، پھر مر جاتا ہے اور میری رسالت پر ایمان نہیں لاتا تو وہ جہنم والوں میں سے ہوگا۔‘‘
چنانچہ پوری امت محمدیہ اس بات پر متفق ہے کہ نبی کریمﷺ پر ایمان لانا واجب ہے اور انسانوں اور جنات کی پوری مخلوق جسے رسالتِ محمدی پہنچ جائے، پھر وہ ایمان نہ لائے تو وہ کافروں کی طرح عذابِ الہٰی کی مستحق ہوگی، اس پر تمام صحابہ و تابعین اور اہل سنت و جماعت کے تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔
(حقوق النبی علی أمتہ فی ضوء الکتاب و السنۃ: جلد 2 صفحہ 72)۔
امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقام نبوت کا پورا احترام کیا، اور اپنے اقوال و افعال سے اس کے نفوس کو واضح کیا اور کوشش کرتے رہے کہ لوگوں کو رسول اللہ کی کامل اقتداء و اتباع پر ابھارتے رہیں، چنانچہ ایک مقام پر فرمایا:
’’اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر عمل کرو، وہی سب سے افضل طریقہ ہے اور آپ کی سنتوں کو اختیار کرو وہی سب سے بہترین و افضل سنت ہے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 319)۔