چند شہ پارے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

چند شہ پارے

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

1: پہلے گزر چکا ہے جب 203ھ میں سیدنا علی رضا بن موسیٰ کاظمؒ کا انتقال ہوا، تو ان کے صاحبزادے امام محمد بن علی المعروف بہ سیدنا جواد کی عمر سات آٹھ سال کی تھی ان کی پیدائش 195ھ میں ہوئی تھی۔  

2: پھر سیدنا جواد کا 220ھ میں انتقال ہوا، تو ان کے صاحبزادے سیدنا علی نقیؒ کی عمر 6 سال کی تھی ان کی ولادت رجب 214ھ کی ہے۔  

3: تاریخی شواہد کے خلاف حضرات امامیہ کا دعویٰ ہے کہ سیدنا حسن عسکریؒ کی وفات 260ھ کے وقت ان کا ایک بے نام و نشان صاحبزادہ چار پانچ سال کا تھا، جو ان کی وفات سے چند دن پہلے روپوش ہو گیا تھا۔ اب قیامت تک کے لیے وہی امام ہے اہل عقل جانتے ہیں کہ بچہ مکلف نہیں شریعت نے اس کو مرفوع القلم ٹھہرایا ہے اور دنیا کی کسی عدالت میں بچے کی شہادت معتبر نہیں عقل کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ امامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا، تو اللہ تعالیٰ اس بات کا بھی انتظام فرماتے کہ جب تک امام کا بیٹا بالغ نہ ہو جائے، تب تک امام کو دنیا سے نہ اٹھایا جائے، تاکہ امام کا جانشین بالغ ہو، نا بالغ بچہ نہ ہو لیکن عقل و شرع کے خلاف حضراتِ امامیہ نا بالغ بچوں کی امامت کے قائل ہیں اور اس کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ نعوذ باللّٰہ!

بہرحال جب حضراتِ امامیہ کے بقول اللہ تعالیٰ کی رائے بدل جاتی ہے اور وہ ایک شخص کو امام بنا کر اسے موت سے نہیں بچاتے بلکہ دوسرے کو امام بنا دیتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ نا بالغوں کو ساری دنیا کا امام بنانے سے بھی دریغ نہیں فرماتے، تو بہت ممکن تھا کہ بارہویں امام کے بعد بھی خدا کی رائے بدل جاتی اور امام کا انتقال نا بالغی میں ہو جاتا، تو بڑی پریشانی لاحق ہوتی کہ اس نا بالغ کے بعد اب امامت کا تاج کس کے سر پر رکھا جائے؟ اس لیے قرین مصلحت یہی تھا کہ امام کو غائب کر دیا جائے اور اس کا زمانہ قیامت تک پھیلا دیا جائے، تاکہ نہ کسی کو امام کے بارے میں کچھ خبر ہو، نہ لب کشائی کر سکے کہ آیا وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ اور نہ بارہویں امام کے بعد کسی اور امام کو تلاش کرنے کی زحمت اٹھانی پڑے امامت کا سلسلہ 260ھ تک تو ظاہری طور پر چلتا رہا۔ 260ھ کے بعد بارہویں امام روپوش ہو گئے پہلے غیبتِ صغریٰ رہی، جس میں امام کے خصوصی سفیروں کو بارگاہ امامی میں باریابی کا شرف حاصل ہوتا تھا یہ سلسلہ 329ھ تک جاری رہا بعد میں لوگوں کو خبر ہو گئی، حکومت کی طرف سے تحقیق و تفتیش شروع ہوئی، تو غیبتِ کبریٰ کا اعلان کر دیا گیا یعنی اب کوئی شخص امام الزماں سے رابطہ قائم نہیں کر سکتا مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃاللہ نے ایرانی انقلاب میں امام قائم الزمان کی ان دونوں غیبتوں کا بہت اچھا خلاصہ ذکر کیا ہے اس کو انہی کے الفاظ میں پڑھ لیا جائے۔