شیعہ کے جنازہ اور ختم اور قل وغیرہ میں شرکت کرنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے ملک پاکستان میں جو شیعہ رہتے ہیں، ہم سنی مسلمانوں کے لیے ان کے جنازہ، ختم قل وغیرہ میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ اس بارے میں عوام الناس کے لیے کیا حکم ہے؟ اور خصوصاً ہمارے اہلِ سنت والجماعت کے علمائے کرام کے لیے کیا حکم ہے؟ کہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر وہ کسی ختم وغیرہ کے لیے ہمارے ائمہ مساجد کو بلاتے ہیں تو ان کو جانا چاہیے یا نہیں؟ اگر ان کے گھر سے کھانے کی کوئی چیز پیش کی جائے یا بھیجی جائے تو لینا چاہیے یا نہیں؟ از راہِ کرم وضاحت فرمائیں۔
جواب: جو شیعہ درج ذیل عقائد رکھتے ہوں وہ بلا شک و شبہ کافر ہیں، ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں، علماء اور عوام کے لیے یہ حکم برابر ہے۔
1: تحریفِ قرآنِ پاک کا عقیدہ رکھتے ہوں۔
2: قذفِ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے قائل ہوں۔
3: سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت اور خلافت کے منکر ہوں۔
4: حضراتِ شیخینؓ پر سبِ وشتم کرنے والے ہوں۔
5: سیدنا علیؓ کو خدا یا خدائی صفات کا حامل جاننے والے ہوں۔
6: حضرت جبرئیل علیہ السلام کو وحی لانے میں غلطی کا الزام دینے والے ہوں۔
7: وہ شیعہ جو زکوٰۃ کی فرضیت کے منکر ہوں۔
ان الرافضی ان کان ممن یعتقد الالوہیة فی علی او ان جبرئیل علیہ السلام غلط فی الوحی او کان ینکر صحبة الصدیق او یقذف السیدة الصدیقة فهو کافر لمخالفتہ القواطع المعلومة من الدین بالضرورة۔
(فتاویٰ شامی: جلد2 صفحہ 314)
من انکر خلافة ابی بکر فهو کافر فی الصحیح ومنکر خلافة عمر فهو کافر فی الاصح۔
(بزازیہ ہامش علی الہندیہ: جلد 6 صفحہ 318)
والعلماء المحققون من التحریف والزیادة والنقصان ولا یتطرق الیہ الخلل ابدا ویل للرافضة حیث قالوا قد تطرق الخلل الی القرآن وقالوا ان عثمان وغیرہ حرقوہ والقو منہ عشرة اجزاء۔
(تفسیر مظہری: جلد5 صفحہ155)
اما صفتہا فھی فریضة محکمة یکفر جاحدھا ویقتل مانعھا ھکذا فی محیط السرخسی۔
(عالمگیری: جلد1 صفحہ170)
لان الرافضی کافر ان کان یسب الشیخین مبتدع ان فضل علیا علیھما من غیر سب فی الخلاصة۔
(شامی: جلد3 صفحہ201)
وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ قال علماؤنا هذا نص فی الامتناع من الصلوٰۃ على الكفار یؤخذ لانہ عامل المنع من الصلوٰۃ على الكفار لكفرہم لقولہ تعالیٰ اِنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ۔
(تفسیر قرطبی: جلد، 8 صفحہ، 221)
سنی مسلمانوں کو شیعہ کے ختم اور قل وغیرہ محافلِ ایصالِ ثواب میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے، اگر وہ ائمہ مساجد کو بلائیں تب بھی جانا جائز نہیں ہے۔
ولا تصل المراد بہ الصلوٰة الدعاء والاستغفار للمیت فیشتمل صلوٰة الجنازة و ایضا لانھا مشتملة على الدعاء والاستغفار۔
(تفسیر مظہری: جلد،4 صفحہ 254)
شیعہ کے گھر سے اگر گوشت آئے، چاہے مطبوخ ہو یا غیر مطبوخ قبول نہ کرنا چاہیے، اس کے علاوہ دال اور سبزیاں وغیرہ دیں تو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
منھا ان یکون مسلما او کتابیا فلا تؤکل ذبیحة اھل الشرک والمجوس والوثنی وذبیحة المرتد۔
(بدائع الصنائع: جلد4 صفحہ 164)
(ارشاد المفتین: جلد1 صفحہ516)
