سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول چند آیات کی تفسیریں - دفاعِ…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول چند آیات کی تفسیریں

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

7) حالتِ نماز میں قرآنی آیات میں تدبر و انہماک:

امیر المؤمنین علیؓ نے صراحتاً فرمایا کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ رحمتِ الہٰی والی آیات سے گزرے تو اللہ سے اس کی رحمتوں کا سوال کرے اور جب عذاب والی آیات سے گزرے تو اس سے اللہ کی پناہ کا طالب ہو۔ چنانچہ عبد خیر الہمدانی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو نماز میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ﴿١﴾ اس کے جواب میں آپ نے کہا: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ)) 

(المحلی: جلد 4 صفحہ 188 السنن الصغریٰ: جلد 1 صفحہ 146)۔

حجر بن قیس المدری سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کے پاس رات گزاری، آپ تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے:

اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا تُمۡنُوۡنَ۞ءَاَنۡتُمۡ تَخۡلُقُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡخٰلِقُوۡنَ۞ (سورۃ الواقعة آیت 58، 59)

ترجمہ: ذرا یہ بتلاؤ کہ جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو۔کیا اسے تم پیدا کرتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟

تو آپ ٹھہر گئے اور تین مرتبہ کہا: نہیں بلکہ اے میرے رب تو ہی یہ کرتا ہے، پھر آپ اگلی آیات کی تلاوت کی:

اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَ۞ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ۞(سورۃ الواقعة آیت 63، 64)

ترجمہ: اچھا یہ بتاؤ کہ جو کچھ تم زمین میں بوتے ہو، کیا اسے تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہم ہیں؟

آپ ٹھہر گئے اور کہنے لگے: نہیں، بلکہ اے میرے رب تو ہی یہ کرتاہے، پھر اگلی آیات کی تلاوت شروع کیا:

اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِىۡ تَشۡرَبُوۡنَ۞ ءَاَنۡـتُمۡ اَنۡزَلۡـتُمُوۡهُ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۞ (سورۃ الواقعة آیت 68، 69)

ترجمہ: اچھا یہ بتاؤ کہ یہ پانی جو تم پیتے ہو۔ کیا اسے بادلوں سے تم نے اتارا ہے، یا اتارنے والے ہم ہیں ؟

حضرت علیؓ پھر ٹھہر گئے اور کہنے لگے: نہیں، بلکہ میرے رب! تو ہی یہ سب کرتا ہے۔ پھر آپ نے اگلی آیات کی تلاوت شروع کی:

اَفَرَءَيۡتُمُ النَّارَ الَّتِىۡ تُوۡرُوۡنَ۞ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡشَاۡتُمۡ شَجَرَتَهَاۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡشِئُـوۡنَ۞ (سورۃ الواقعة آیت 72)

ترجمہ: اچھا یہ بتاؤ کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو۔ کیا اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟

حضرت علیؓ یہاں بھی ٹھہرے اور کہنے لگے: نہیں، بلکہ اے میرے رب تو ہی یہ سب کرتا ہے۔‘‘

(الدر المنثور: السیوطی: جلد 8 صفحہ 22، 23)

8) فرمان الہٰی:

يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَ۞ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ۞(سورۃ الشعراء آیت 88، 89)

ترجمہ: جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا، نہ اولاد۔ ہاں جو شخص اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا (اس کو نجات ملے گی)

مذکورہ آیت کی تفسیر میں سیدنا علیؓ نے فرمایا: مال اور اولاد دنیا کی کھیتی ہیں اور نیک اعمال آخرت کی کھیتی ہیں، اللہ تعالیٰ کبھی کبھی کچچ لوگوں کو دونوں کھیتیاں عطا کر دیتا ہے۔

 (تفسیر أمیر المومنین علی بن أبی طالب: فہد بن عبدالعزیز الفاضل: جلد 32 صفحہ 661)۔


صفحہ 2 از 2