بداء کے بارے میں اصول کافی کی روایت - ردِ رافضیت | دفاع…

بداء کے بارے میں اصول کافی کی روایت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

دوسری مرتبہ سیدنا حسن عسکریؒ کے والد بزرگوار سیدنا علی نقیؒ کے زمانے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ پہلے ان کے بڑے صاحبزادے محمد کو امامت کے لیے نامزد کیا گیا تھا کہ ناگہ ان کا انتقال والد کی زندگی میں ہو گیا۔ ناچار ان کی جگہ دوسرے صاحب زادے سیدنا حسن عسکریؒ کو امامت کے لیے نامزد کرنا پڑا۔

اصول کافی میں ہے:  

10 على بن محمد عن اسحاق بن محمد عن ابی هاشم الجعفری قال: كنت عند محمد ابی الحسن بعد ما مضی ابنه ابو جعفر و انی لافكر فى نفسی ارید ان اقول كانهما اعنی ابا جعفر و ابا محمد فى هذا الوقت كابى الحسن موسیٰ و اسماعیل ابن جعفر ابن محمد و ان قصتهما كقصتهما اذ كان ابو محمد المرجی بعد ابی جعفر فاقبل على ابو الحسن قبل انطلق فقال نعم يا ابا هاشم بدا لله فى ابی محمد جعفر مالم يكن يعرف لهٔ كما بدا له فى موسی بعد موت اسماعیل كشف به عن حاله وهو كما حدثتك نفسك وان كره المبطلونٔ و ابو محمد من بعدى عنده علم ما يحتاج اليه و معد آله الامامه۔

(اصول کافی: جلد1 صفحہ 337)

ترجمہ: ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابو الحسن یعنی علی نقیؒ کے پاس تھا، جب ان کے لڑکے ابو جعفر یعنی محمد کا انتقال ہوا میں اپنے دل میں سوچ رہا تھا کہ اس وقت سیدنا علی نقیؒ کے دونوں صاحب زادوں ابو جعفر اور ابو محمد کا وہی قصہ ہو جو سیدنا جعفرؒ کے موسیٰؒ اور اسماعیلؒ کا ہوا تھا کیونکہ اسماعیلؒ کے بجائے موسیٰؒ کو امام بنانا پڑا اسی طرح اب ابو جعفر کے بجائے ابو محمد کو امام تجویز کیا گیا۔ سیدنا ابو الحسن علی نقیؒ میرے بولنے سے پہلے ہی میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ہاں! اے ابو ہاشم! ابو جعفر کے فوت ہونے کے بعد اب ابو محمد کے بارے میں اللہ کی رائے وہ ہو گئی ہے جو پہلے اس کے لیے معروف نہیں تھی جیسا کہ اسماعیل کے فوت ہونے کے بعد اللہ کی رائے موسیٰ کے بارے میں ہو گئی جس کی وجہ سے اس کا حال کھل گیا قصہ وہی ہے جیسا کہ تمہارے دل میں خیال آیا خواہ باطل پرستوں کو ناگوار ہو، میرا بیٹا ابو محمد میرا جانشین ہوگا اس کے پاس بقدر ضرورت علم بھی ہے اور آلاتِ امامت بھی۔

دوسری روایت میں ہے:  

نمط: سعد بن ابی هاشم الجعفری قال: كنت عند ابی الحسن العسکری عليه السلام وقت وفات ابنه: ابی جعفر وقد كان اشار اليه ودل عليه، وانی لافكر فی نفسی و اقول هذه قصه ابی ابراهیم و قصه اسماعیل فاقبل علی ابو الحسن وقال: نعم يا ابا هاشم بدا لله فی ابی جعفر وجعل مکانه ابا محمد كما بداله فی اسماعیل بعد علی ابو محمد عبد الله و نصبه وهو كما حدثتك نفسك وان کره المبطلون۔  

(بحار الانوار: جلد50 صفحہ 421)

ترجمہ: سیدنا علی نقیؒ نے اپنے بیٹے ابو جعفر کو اپنے بعد امام بنایا تھا اور لوگوں کو ان کی طرف رہنمائی کی تھی، لیکن ابو جعفر کا انتقال باپ کی زندگی میں ہو گیا میں ان کے انتقال کے وقت سیدنا علی نقیؒ کے پاس بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہ تو وہی قصہ ہوا کہ پہلے اسماعیل کو امام بنایا گیا تھا، پھر اس کی جگہ موسیٰ کاظم کو امام بنایا گیا امام میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ہاں! ابو ہاشم! اللہ تعالیٰ کو ابو جعفر کے بارے میں بداء ہو گیا یعنی اللہ تعالیٰ کی رائے بدل گئی اور ان کی جگہ ابو محمد کو امام بنا دیا گیا۔ جیسا کہ اسماعیل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رائے بدل گئی تھی حالانکہ سیدنا صادقؒ نے اسماعیل کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا بات وہی ہے جو تمہارے دل میں گزری، اگرچہ باطل پرستوں کو ناگوار ہو۔

حضراتِ امامیہ بارگاہ امامی میں یہ گستاخی نہیں کر سکتے تھے کہ حضرت امام نے پہلے ایک صاحبزادے کے بارے میں یہ توقع کی تھی کہ وہ ان کے بعد تک جئیں گے اس لیے ان کو اپنا جانشین مقرر کر دیا لیکن قضا و قدر کے فیصلے کے تحت ان صاحبزادے کا انتقال والد کی زندگی میں ہو گیا، تو مجبوراً حضرت امام کو اپنا دوسرا بیٹا نامزد کرنا پڑا اگر ایسا گستاخانہ خیال کیا جاتا، تو ایک امام کے منصوص من اللہ ہونے کے عقیدے کی جڑ کٹ جاتی۔ دوسرے یہ لازم آتا کہ امام ماکان و مایکون کے عالم نہیں ہوتے تیسرے امام کی طرف خطاء کی نسبت لازم آتی جب کہ امام ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں اس لیے حضرات امامیہ کو یہ بات سہل نظر آئی کہ امام کے بجائے اس تبدیلی کا ذمہ دار خدا کو ٹھہرایا جائے نعوذ باللّٰہ! لیکن اس میں یہ مشکل ضرور پیش آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امام کے نام کی ایک تختی بھی تو نازل کی گئی تھی، جو سیدہ فاطمہؓ کے پاس محفوظ تھی اور جس کا پورا متن اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 527 میں نقل کیا گیا ہے اس تختی کے نازل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رائے کیسے بدل گئی؟ غالباً اس تختی کی دوبارہ تصحیح کی گئی ہوگی سلسلہ امامت میں ایک مشکل یہ پیش آتی تھی کہ جس امام زادے کو امامت کے لیے نامزد کیا جاتا، اس کے والد کا انتقال اس کی نا بالغی کے زمانے میں ہو جاتا اس قسم کا حادثہ تین مرتبہ پیش آیا۔