سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط کرنے کے اصول و مبادی

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

لیکن راجح اور صحیح بات یہ ہے کہ ایسی عورت کی عدت دونوں حالتوں میں وضع حمل (ولادت) تک ہے، کیوں کہ عبداللہ بن عتبہ سے بسند صحیح ثابت ہے کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انھیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہؓ کی زوجیت میں تھیں، وہ بدری صحابی تھے۔حجۃ الوداع کے موقع پر ان کی وفات ہو گئی اور وہ حاملہ تھیں، ابھی کچھ ہی ایام گزرے تھے کہ ان کو ولادت ہو گئی اور جب نفاس سے پاک ہو گئیں تو پیغامِ نکاح دینے والوں کے لیے زیب و زینت کی، ایک دن ان کے پاس ابوالسنابلؓ آئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم زیب و زینت کر رہی ہو؟ شاید تمھیں نکاح کی خواہش ہے، جان لو! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی ہو جب تک کہ عدت وفات چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں، سبیعہ کہتی ہیں کہ جب ابوالسنابلؓ نے مجھ سے یہ بات کہی تو میں نے شام کو اپنے کپڑوں کو سنبھالا، اور رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور آپﷺ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا: آپﷺ نے مجھے فتویٰ دیا کہ جب تمھارے بطن سے ولادت ہو گئی تو حلال ہوگئی، پھر آپﷺ نے مجھ سے کہا: اگر خواہش رکھتی ہو تو شادی کر لو۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1484)۔ 

ممکن ہے حضرت علیؓ کو حضرت سبیعہؓ کی اس حدیث کا علم نہ رہا ہو، اس لیے کہ آپ کا فتویٰ اس کے خلاف تھا، ورنہ آپ رسول اللہﷺ سے ثابت شدہ حدیث کے خلاف فتویٰ نہ دیتے۔

(فقہ الإمام علی: جلد 2 صفحہ 617)

10۔ اہل عرب اور ان کے مضافات کے باشندوں کے عادات و خصائل سے واقفیت:

نزولِ قرآن کریم کے وقت اہل عرب اور ان کے مضافات میں بسنے والے یہود و نصاریٰ کے عادات و خصائل کی معرفت سے قرآن فہمی کے بہت سے پہلو آسان ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے اسی زمانہ میں پرورش پائی اور وہ بہت ساری عادات کہ جن سے قرآن نے منع کیا یا جنھیں باقی رکھا، انھیں حضرت علیؓ نے اچھی طرح پہچانا، اس معرفت کی مثال ابن ابی حاتم سے مروی وہ روایت ہے کہ جب ابن وائل اور ابوالفرزدق کے مابین فخر و مباہات کا دور شروع ہوا اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے 100 سو، 100 سو اونٹ نحر کیے تو حضرت علیؓ رسول اللہﷺ کے سفید خچر پر سوار ہو کر نکلے اور اعلان کرنے لگے کہ اے لوگو! ان اونٹوں کو نہ کھانا، کیوں کہ یہ غیر اللہ کے لیے ذبح کیے گئے ہیں۔ پس حضرت علیؓ نے اپنے وقت میں اہل عرب کی مروجہ عادات سے یہ جان لیا کہ یہ اللہ کے لیے نہیں بلکہ شیطان کے لیے ہے، اس لیے آپؓ نے ان دونوں کا گوشت کھانے سے منع کیا اور اللہ کے اس فرمان سے استدلال کیا:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ (سورۃ المائدۃ آیت 3)    

ترجمہ: ’’تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے۔‘‘ 

(تفسیر امیر المومنین علی بن ابی طالب: فہد عبدالعزیز الفاضل: جلد 1 صفحہ 30، ریاض یونیورسٹی میں پیش کیا گیا یہ ایک رسالہ ہے جو ابھی شائع نہیں ہوا ہے۔)

11۔ قوت فہم اور معلومات کی وسعت:

قوت فہم اور معلومات کی وسعت حضرت علیؓ کی ایک امتیازی صفت تھی، جس میں آپؓ کو شہرت حاصل ہوئی، اس کی بہت سی مثالیں ہیں، مثلاً ابن جریر نے روایت کیا ہے کہ ایک خارجی نے حضرت علیؓ کو اس وقت پکارا جب آپ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، پھر اس نے اللہ کے اس فرمان کی تلاوت کی:

وَلَـقَدۡ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ‌لَئِنۡ اَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏۞ (سورۃ الزمر آیت 65)

ترجمہ: اور یہ حقیقت ہے کہ تم سے اور تم سے پہلے تمام پیغمبروں سے وحی کے ذریعے یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ اگر تم نے شرک کا ارتکاب کیا تو تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے گا۔ اور تم یقین طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔

سیدنا علیؓ نے اس کے جواب میں نماز ہی میں آیت تلاوت کی:

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ‌ وَّلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ الَّذِيۡنَ لَا يُوۡقِنُوۡنَ ۞(سورۃ الروم آیت نمبر 60)

ترجمہ: لہٰذا (اے پیغمبر) تم صبر سے کام لو، یقین جانو اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ یقین نہیں کرتے ان کی وجہ سے تم ڈھیلے پڑ جاؤ۔  

(تفسیر الطبری: جلد 21 صفحہ 59)۔ 

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم سے احکامات کے استنباط اور اس کے معانی کو سمجھنے کے لیے ان مذکورہ اصول و مبادیات کو اختیار کیا، لہٰذا محبانِ علیؓ اور تمام مخلص مسلمانوں کو چاہیے کہ قرآن کریم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے اس منہج کو سامنے رکھیں۔


صفحہ 5 از 5