سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط کرنے کے اصول و مبادی

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

حضرت علیؓ نے اپنے اس منہج کو نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہوئے یوں واضح فرمایا کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس میں شریعت کا کوئی امر یا نہی وارد نہ ہو تو ہم کیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایا:

’’علماء و عابدین سے مشورہ کرو اور بلامشورہ اس میں نہ گھسو۔‘‘ 

(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 66، منہج علی بن أبی طالب فی الدعوۃ إلی اللہ: 78) 

8۔ سبب نزول کا علم:

اسبابِ نزول کی معرفت سے آیات کے معانی کو سمجھنا اوران سے احکام مستنبط کرنا بہت حد تک آسان ہو جاتا ہے، آپ کو قرآنی آیات کے اسبابِ نزول کا گہرا علم تھا، جیسا کہ حضرت علیؓ نے قرآن کے بارے میں استفسار کرنے پر لوگوں کو رغبت دلاتے ہوئے کہا: مجھ سے پوچھو مجھ سے پوچھو، اور مجھ سے اللہ کی کتاب کے بارے میں پوچھو، اللہ کی قسم! میں آیات کے بارے میں جانتا ہوں کہ کون سی آیت رات میں اتری اور کون سی دن میں (الإصابۃ: جلد 2 صفحہ 509)

اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ کی قسم! جتنی آیات اتری ہیں میں سب کے بارے میں جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں اور کہاں اتری ہیں۔

(طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 338)۔

9: عام حکم کی تخصیص:

’’عام‘‘ کا اطلاق اس لفظ پر ہوتا ہے جو ایک کیفیت کے تمام معانی پر ایک ہی حالت میں ایک ساتھ بلا کسی حصر کے دلالت کرے۔

(تیسیر علم أصول الفقہ: عبداللہ الجدیع: صفحہ 262)۔

 اور کسی لفظ کو عموم پر محمول کرنے کا قاعدہ یہ ہے کہ جب تک کوئی تخصیص نہ وارد ہو یہ لفظ اپنے عموم پر باقی رہتا ہے، کبھی کبھار شریعت کی طرف سے ایسا حکم آ جاتا ہے جو عمومی حکم کو صرف بعض افراد تک محدود کر دیتا ہے، جسے ’’عام حکم کی تخصیص‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

(تیسیر علم أصول الفقہ: عبداللہ الجدیع: صفحہ 269)۔

سیدنا علیؓ سے ایسے آثار ملتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ ’’عام کی تخصیص‘‘ کے قائل تھے، چنانچہ آپؓ سے ایسی دو لونڈیوں کے بارے میں پوچھا گیا جو حقیقی بہنیں ہیں اور ایک ہی مالک کی ملکیت میں ہیں، اس نے ایک سے وطی کی، پھر دوسرے سے بھی وطی کرنا چاہتا ہے، حضرت علیؓ نے فرمایا: نہیں۔

(فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 560)۔

ابن الکواء سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا علیؓ رضی اللہ عنہ سے دو بہنوں کو ایک ساتھ لونڈی کی حیثیت سے رکھ کر ان سے مباشرت کرنے کے بارے میں پوچھا تو حضرت علیؓ نے جواب دیا: ایک آیت نے حرام کیا ہے، اور ایک آیت نے حلال کیا ہے، لیکن نہ میں اسے کرنے والا ہوں اور نہ ہی میری آل اولاد۔

(فقہ الإمام علی: جلد 2 صفحہ 560)۔

حضرت علیؓ کے استنباط کی نوعیت یہ تھی کہ جس آیت نے دونوں کو ایک ساتھ رکھنے کو حرام کیا ہے وہ یہ ہے:

وَاَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ (سورۃ النساء آیت 23) 

’’اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو۔‘‘

جس آیت سے اس کی حلت ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے:

إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (سورۃ المومنون 6)

’’مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘

مذکورہ دونوں آیات کے درمیان عموم و خصوص کی نسبت ہے، جس کی توضیح یہ ہے کہ دوسری آیت میں ملکیت کی لونڈیوں سے لذت اندوز ہونے کا جو عمومی حکم ہے، اسے پہلی آیت میں دو بہنوں کی یکجائی زوجیت کی ممانعت سے خاص کر لیا گیا ہے۔

(الاحکام: الآمدی: جلد 2 صفحہ 445، روضۃ الناظر: جلد 2 صفحہ 129)۔

• اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ جس حاملہ عورت کا شوہر وفات پاچکا ہو، اس کی عدت یہ ہے کہ حمل اور وفات کی دونوں عدتوں میں جس کی مدت طویل ہو اسی کا اعتبار کرے۔

 (الفصول فی الاصول: الجصاص: جلد 6 صفحہ 106)۔

• گویا حضرت علیؓ نے دو آیات کے عمومی احکام کو ایک دوسرے سے خاص کیا، ایک آیت ہے:

وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا۞ (سورۃ البقرة آیت 234)

’’اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن انتظار میں رکھیں۔

دوسری آیت میں ہے:

وُاولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورۃالطلاق آیت 4)

’’اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔‘‘

حضرت علیؓ کا خیال تھا کہ ایسی حاملہ عورت جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو، اگر اسے چار مہینے دس دن سے پہلے ولادت ہو جاتی ہے تو وہ دوسری آیت کے عمومی حکم پر عمل نہیں کرے گی، بلکہ بقیہ ایام کی تکمیل کرے گی، اس لیے کہ پہلی آیت دوسری آیت کی تخصیص کرتی ہے، اور اگر وفات کی عدت پوری ہو جاتی ہے اور ولادت نہیں ہوتی تو ولادت ہو جانے تک اس کی عدت ہے، اس لیے کہ پہلی آیت کا عموم اپنی حالت پر باقی نہیں بلکہ دوسری آیت کے حکم سے مخصوص ہے۔ اس طرح آپ کے نزدیک دونوں آیات میں سے ہر ایک، ایک وجہ سے خاص ہے اور دوسری وجہ سے عام ہے۔ شاید احتیاط کے مدِنظر حضرت علیؓ کا ایسا خیال تھا تاکہ دونوں آیات پر عمل ہو جائے۔

(فقہ الامام علی: جلد 1 صفحہ 50)۔

صفحہ 4 از 5