سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط کرنے کے اصول و مبادی

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

ترجمہ: ’’اور اگر تم انھیں اس سے پہلے طلاق دے دو کہ انھیں ہاتھ لگاؤ، اس حال میں کہ تم ان کے لیے کوئی مہر مقرر کر چکے ہو۔‘‘میں آپ نے ’’مس‘‘ کو خلوت پر محمول کیا ہے، اور فرمایا: یہاں ’’مس‘‘ سے خلوت مراد ہے۔

(الفصول فی الاصول: جصاص: جلد 1 صفحہ 202)۔

 چنانچہ خلوت ہو جانے کے بعد آپ نے پورے مہر کی ادائیگی کو واجب قرار دیا ہے۔

(فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 48)

 اور فرمایا: جب شوہر نے اپنی بیوی کو پردے کے آڑ میں کر لیا اور دروازہ بند کر لیا تو کامل مہر اور عدت واجب ہوگئی۔

(مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 4 صفحہ 234) فقہ الإمام علی: جلد 2 صفحہ 531)۔

6۔ قرآن کی ایک نص کو دوسری نص سے سمجھنا:

• اللہ کا ارشاد ہے: وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا (سورۃ النساء آیت 141)

ترجمہ: ’’اور اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہرگز کوئی راستہ نہیں بنائے گا۔‘‘

اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے حضرت علیؓ نے آیت کے سیاق و سباق کی طرف رجوع کیا اور فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ

 (سورۃ النساء آیت 141) ’’پس اللہ تمھارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا‘‘

 سے آیت کا معنیٰ متعین کیا کہ یہ قیامت کے دن کے بارے میں ہے۔ یعنی قیامت کے دن کافروں کو ایمان والوں پر اللہ ہرگز راہ نہ دے گا، 

اس واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ ایک آدمی حضرت علیؓ کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ فرماتا ہے: وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا سورۃ النساء آیت 141) کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: قریب آؤ، قریب آؤ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اس دن کافروں کو مومنوں پر ہرگز راہ نہ دے گا۔

(تفسیر ابن جریر: جلد 9 صفحہ 327) اس کی سند صحیح ہے۔)

• اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ۞(سورۃ 52 الطور آیت 5)

ترجمہ: اور بلند کی ہوئی چھت کی۔ 

 ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ نے ابن جریر کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت علیؓ نے اونچی چھت کی تفسیر ’’آسمان‘‘ سے کی، سفیان کہتے ہیں کہ پھر آپ نے تلاوت کیا:

وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا مَّحۡفُوۡظًا وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ‏۞(سورۃ الأنبياء آیت 32)

ترجمہ: اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا ہے، اور یہ لوگ ہیں کہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

• اللہ کا ارشاد ہے:

حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ۞(سورۃ البقرة آیت نمبر 238)

ترجمہ: تمام نمازوں کا پورا خیال رکھو، اور (خاص طور پر) بیچ کی نماز کا اور اللہ کے سامنے باادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو۔

حضرت علیؓ نے درمیانی نماز یعنی صلاۃ وسطیٰ کی تفسیر عصر کی نماز سے کی ہے، اور اس سلسلہ میں حدیث نبویﷺ پر اعتماد کیا ہے۔ آپﷺ نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمایا تھا:

شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی صَلَاۃَ الْعَصْرِ مَلَأَ اللّٰہُ بُیُوْتَہُمْ وَ قُبُوْرَہُمْ نَارًا۔

(صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 437)۔

’’مشرکوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ یعنی عصر کی نماز سے غافل کر دیا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔‘‘

• اللہ تعالیٰ کا فرمایا:

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓئِرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا ۞ (سورۃ النساء آیت 31)

ترجمہ: اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری چھوٹی برائیوں کا ہم خود کفارہ کردیں گے۔ اور تم کو ایک باعزت جگہ داخل کریں گے۔

سہل بن ابی خیثمہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: میں کوفہ کی مسجد میں تھا، اور حضرت علیؓ منبر پر خطبہ دے رہے تھے، آپؓ فرما رہے تھے: اے لوگو! بڑے بڑے گناہ سات ہیں، آپؓ نے بلند آواز سے لوگوں کو مخاطب کیا اور تین مرتبہ یہی دہرایا، پھر کہا: اِن کے بارے میں تم لوگ مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین وہ کیا ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، پاک دامن عورتوں پر تہمت باندھنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا، ہجرت کے بعد واپس دیہات میں چلے جانا۔

(تفسیر الطبری: جلد 5 صفحہ 25)۔

حضرت علیؓ نے بڑے بڑے گناہوں کی یہ تفسیر اس حدیث نبوی پر اعتماد کرتے ہوئے کی تھی جس میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ۔

’’سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو۔‘‘

صحابہ کرامؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول وہ کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا:

اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ وَ السِّحْرُ وَ قَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ، وَ أَکْلُ الرَّبٰوا وَ أَکْلُ مَالَ الْیَتِیْمِ وَ التَّوَلِّیْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَ قَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ۔

(صحیح البخاری: الوصایا: حدیث نمبر 2766)۔

’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی کو قتل کردینا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا، مومنہ بھولی بھالی اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔‘‘

7: مشکل آیات کے بارے میں استفسار کرنا:

قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے امیر المؤمنین علیؓ کے منہج میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جو قرآنی آیات آپؓ کے لیے مشکل ہوتیں، حضرت علیؓ ان کے بارے میں استفسار کرتے، چنانچہ ارشاد الہٰی: وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهٖ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ (سورۃ التوبۃ آیت 3) 

ترجمہ: اور اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے حجِ اکبر کے دن

تمام لوگوں کی طرف صاف اعلان ہے۔ میں ''حج اکبر‘‘ کے بارے میں حضرت علیؓ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ وہ کون سا دن ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’یَوْمُ النَّحْرِ‘‘ 

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 970 شیخ البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ جلد 1 صفحہ 282)۔ قربانی کا دن۔ 

صفحہ 3 از 5