سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط کرنے کے اصول و مبادی

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡـتُمۡ حُرُمٌ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡكُمۡ هَدۡيًاۢ بٰلِغَ الۡـكَعۡبَةِ(سورۃ المائدة آیت 95)

ترجمہ: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! شکار کو مت قتل کرو، اس حال میں کہ تم احرام والے ہو اور تم میں سے جو اسے جان بوجھ کر قتل کرے تو چوپاؤں میں سے اس کی مثل بدلہ ہے جو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو انصاف والے کریں، بطور قربانی جو کعبہ میں پہنچنے والی ہے۔‘‘

اس آدمی نے کہا: ہاں، پھر کہنے لگا کہ میں نے حالت احرام میں ایک ہرن کا شکار کر لیا ہے، مجھ پر کیا فدیہ واجب ہوتا ہے، حضرت علیؓ نے فرمایا: ایک ہدی جسے کعبہ تک پہنچایا جائے۔

(الدر المنثور: جلد 3 صفحہ 193)

سیدنا علیؓ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ’’ہَدِیْ بَہِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ‘‘ یعنی ان آٹھ قسم کے مویشی چوپایوں میں سے ہونی چاہیے جن کا ذکر قرآن میں ہوا ہے۔ (مترجم)

3۔ مطلق کو مقید پر محمول کرنا:

جو چیز اپنی ماہیت پر بلا قید دلالت کرے وہ مطلق ہے اور اگر لفظاً کسی بھی طرح کی کوئی قید ہو تو مقید ہے۔

(جمع الجوامع بشرح المحلیٰ: جلد 2 صفحہ 79) فقہ الإمام علی: جلا 1 صفحہ 47)

امیر المؤمنین علیؓ نے مسائل کے استنباط میں قرآن کی مطلق آیات کو مقید آیات پر محمول کیا ہے، چنانچہ جس آیت میں چوری کی سزا مطلق ہاتھ کاٹنا بتائی گئی ہے، اسے آیت محاربہ سے مقید مانا ہے، یعنی کہ دو مرتبہ سے زیادہ نہیں کاٹے جائیں گے اور اگر بار بار چوری کی تو ایک ہاتھ اور ایک پاؤں سے زیادہ اور کچھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ کے نزدیک اگر کسی چور نے ایک مرتبہ چوری کی تواس کا داہنا ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر پھر دوبارہ چوری کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹا جائے گا اور اگر تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ اس نے چوری کی تو اس کے علاوہ اس کا کوئی عضو نہیں کاٹا جائے گا، بلکہ اس کے بدلے اسے تعزیری سزا دی جائے گی۔ چنانچہ آپ نے اللہ کے فرمان: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوآ اَيْدِيَهُمَا (سورۃ المائدۃ آیت 38) 

ترجمہ: اور جو چوری کرنے والا اور جو چوری کرنے والی ہے سو دونوں کے ہاتھ کاٹ دو 

کہ آیت محاربہ اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيۡنَ يُحَارِبُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَسۡعَوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ يُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ يُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ۞(سورۃ المائدة آیت نمبر 33)

 ترجمہ: ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں، یہی ہے کہ انھیں بری طرح قتل کیا جائے، یا انھیں بری طرح سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مختلف سمتوں سے بری طرح کاٹے جائیں۔‘‘ پر محمول کیا، اور کہا کہ اس آیت میں اللہ نے ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹنے سے زیادہ کی اجازت نہیں دی ہے۔

چنانچہ اس کے بعد بھی چوری کرنے والوں کو آپ جیل خانہ کی سزا دیتے۔

(مصنف عبدالرزاق: اثر نمبر 21874 فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 47)۔

 امام شعبی کا بیان ہے کہ حضرت علیؓ چور کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹنے پر اکتفا کرتے، اس کے بعد بھی اگر چوری کرتا تو اسے قید خانہ میں ڈال دیتے اور سزا دیتے اور فرماتے: 

’’مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ اس کا کوئی ہاتھ باقی نہ چھوڑوں کہ وہ کھانا نہ کھا سکے اور استنجاء نہ کر سکے۔‘‘

(مصنف عبدالرزاق: اثر نمبر 21874 فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 47)۔

4۔ ناسخ و منسوخ کا علم:

نسخ کا مطلب ہے سابقہ حکمِ شرعی کا بعد کے دوسرے خطاب شرعی کی وجہ سے اٹھا لیا جانا۔

(فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 48)۔

علامہ زرکشی کہتے ہیں کہ ائمہ علم و فن کا کہنا ہے کہ جس شخص کو قرآن کے ناسخ و منسوخ کا علم نہ ہو اس کے لیے قرآن کی تفسیر کرنا جائز نہیں۔

(البرہان فی علوم القرآن: جلد 2 صفحہ 29) 

امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بھی اسی مفہوم کی تائید فرمائی ہے، اور ایک قصہ گو واعظ کی سرزنش کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: کیا تمھیں ناسخ و منسوخ کا علم ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تم خود ہلاک ہوئے اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔

(ابوخیثمۃ: کتاب العلم: صفحہ 31) شیخ البانی رحمۃاللہ نے کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔

5۔ لغت عرب پر گہری نظر:

قرآن کی افہام و تفہیم کے لیے حضرت علیؓ کا منہج یہ تھا کہ آپ عربوں کی زبان پر گہری نظر ڈالتے، جیسا کہ فرمان الہٰی:

وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ (سورۃ البقرۃ آیت 228)

ترجمہ: ’’اور وہ عورتیں جنھیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔‘‘ 

کے بارے میں حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’قروئ‘‘ سے مراد حیض ہے۔ لہٰذا مطلقہ کی عدت اس وقت تک پوری نہیں ہوگی جب تک کہ تینوں حیض سے پاک نہ ہوجائے۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 1 صفحہ 271)

 حضرت علیؓ نے مطلقہ کے بارے میں فرمایا: اس کے شوہر کے لیے اس وقت تک رجوع کرنا جائز ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض سے غسل نہ کر لے۔

(الدر المنثور: جلد 1 صفحہ 234)۔

 ’’قروئ‘‘ کا لفظ طہر اور حیض دونوں کے لیے بولا جاتا ہے، چنانچہ جب عورت حیض سے ہوتی ہے تو اہل عرب کہتے ہیں: ’’اَقْرَأَتِ الْمَرَأَۃُ‘‘ اور جب پاک ہوتی ہے تو بھی کہتے ہیں: ’’اَقْرَأَتِ الْمَرْأَۃُ

(الصحاح: الجوہری: جلد 1 صفحہ 64)۔

عربوں کی زبان پر آپ کی گہری نظر کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ کے فرمان {اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَائَ} میں آپ نے ’’لمس‘‘ یعنی چھونے سے ’’جماع‘‘ مراد لیا ہے، آپؓ نے فرمایا: یہاں حقیقت میں ’’لمس‘‘ سے ’’جماع‘‘ مراد ہے۔ اللہ نے اس کے لیے یہاں کنایہ پر اکتفا کیا ہے۔

(فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 48، الفصول فی الأصول: جصاص: جلد 1 صفحہ 203)۔

اسی طرح فرمان الہٰی:

وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً (سورۃ البقرۃ آیت 237) 

صفحہ 2 از 5