Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تقدیر کے مطابق عمل آسان کردیا گیا ہے

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ ہم بقیع الغرقد میں ایک جنازہ میں تھے، ہمارے درمیان اللہ کے رسولﷺ تشریف لائے اور بیٹھ گئے، ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے، آپﷺ کے پاس ایک چھڑی تھی، جس سے آپﷺ زمین کریدنے لگے، پھر آپ نے فرمایا:

مَا مِنْکُمْ مِّنْ أَحَدٍ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَۃٍ إِلَّا وَ قَدْ کَتَبَ اللّٰہُ مَکَانَہَا مِنَ الْجَنَّۃِ وَ النَّارِ، وَاِلَّا وَ قَدْ کُتِبَتْ شَقِیَّۃً أَوْ سَعِیْدَۃٌ۔

’’تم میں سے کوئی ایسا نہیں یا کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانہ جنت اور دوزخ میں نہ لکھا گیا ہو، اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت۔‘‘

ایک صحابی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں، کیوں کہ جس کا نام نیک دفتر میں لکھا ہے وہ ضرور نیک کام کی طرف پلٹے گا اور جس کا نام بدبختوں میں لکھا ہے وہ ضروری بدی کی طرف جائے گا۔ آپﷺ نے فرمایا:

أَمَّا أَہْلُ السَّعَادَۃِ فَیُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَہْلِ السَّعَادَۃِ، وَأَمَّا أَہْلُ الشَّقَاوَۃِ فَیُیَسَّرُوْنَ إِلٰی عَمَلِ أَہْلِ الشَّقَاوَۃِ۔

’’بات یہ ہے کہ جس کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو اچھے کام کرنے میں آسانی معلوم ہو گی اور رہے بدبخت تو انھیں بدبختوں کے کام آسان ہوں گے۔‘‘

پھر آپﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:

فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى وَاتَّقٰى۞وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى۞ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى۞ وَاَمَّا مَنۡ بَخِلَ وَاسۡتَغۡنٰى۞وَكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى۞ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى۞(سورۃ الليل آیت 5 تا 10) 

(صحیح البخاری، حدیث نمبر (1362)۔ 

ترجمہ: اب جس کسی نے (اللہ کے راستے میں مال) دیا، اور تقویٰ اختیار کیا۔ اور سب سے اچھی بات کو دل سے مانا۔تو ہم اس کو آرام کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔ رہا وہ شخص جس نے بخل سے کام لیا، اور (اللہ سے) بےنیازی اختیار کی۔اور سب سے اچھی بات کو جھٹلایا۔تو ہم اس کو تکلیف کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔

اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ صحابہ کرامؓ نے کہا، ہم اپنی تقدیر پر کیوں نہ بھروسہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں، جس کی تقدیر میں نیک بختی ہوگی وہ نیک بختوں کا عمل کرے گا اور جس کی تقدیر میں بدبختی ہوگی وہ بدبختوں کا عمل کرے گا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6605)۔

صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: ایک دن کی بات ہے، اللہ کے رسولﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، آپﷺ اس سے زمین کرید رہے تھے، اچانک آپ نے سر اٹھایا اور یوں گویا ہوئے:

مَا مِنْکُمْ مِنْ نَّفْسٍ إِلَّا وَ قَدْ عُلِمَ مَنْزِلُہَا مِنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ۔

’’تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کا ٹھکانا جنت یا جہنم میں نہ لکھ دیا گیا ہو۔‘‘

صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! پھر ہم عمل کیوں کریں، کیا ہم اسی تقدیر پر بھروسہ نہ کر لیں، آپﷺ نے فرمایا:

لَا اِعْمَلُوْا، فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔

’’نہیں ایسا نہ کرو بلکہ عمل کرو، ہر انسان کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق عمل کو آسان کر دیا گیا ہے۔‘‘

پھر آپ8ﷺ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی:

فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى وَاتَّقٰى۞وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى۞ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى۞ وَاَمَّا مَنۡ بَخِلَ وَاسۡتَغۡنٰى۞وَكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى۞ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى۞(سورۃ الليل آیت 5 تا 10) 

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4949، الفتاویٰ: جلد 8 صفحہ 165)۔

ترجمہ: اب جس کسی نے (اللہ کے راستے میں مال) دیا، اور تقویٰ اختیار کیا۔ اور سب سے اچھی بات کو دل سے مانا۔تو ہم اس کو آرام کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔ رہا وہ شخص جس نے بخل سے کام لیا، اور (اللہ سے) بےنیازی اختیار کی۔اور سب سے اچھی بات کو جھٹلایا۔تو ہم اس کو تکلیف کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔

نبی کریمﷺ نے ان احادیث میں قرآن کی اس تعلیم کو ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی نیک بختی اور بدبختی کا علم ازل سے ہے اور اس نے اسے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے، پھر اپنی مرضی و مشیت کے مطابق اس کے وجود کا فیصلہ کرتا ہے، صرف سعادت و شقاوت ہی نہیں بلکہ بندوں کے دیگر احوال کا بھی اسے علم ہے اور انھیں لوح محفوظ میں لکھ چکا ہے۔ (الفتاویٰ: جلد 8 صفحہ 166)

اور نبی کریمﷺ نے واضح کر دیا کہ تقدیر کا لکھا جانا ان کے اعمال کے منافی نہیں ہے کہ جن سے سعادت یا شقاوت انسان کا مقدر بنتی ہے، بلکہ جو شخص سعادت مندوں میں سے ہوتا ہے، اس کے لیے سعادت مندوں کے کام آسان کر دیے جاتے ہیں اور جو شخص بدبختوں میں سے ہوتا ہے اس کے لیے بدبختی کے کام آسان کردیے جاتے ہیں، اسی لیے آپﷺ نے لوگوں کو نوشۂ تقدیر پر بھروسہ کرنے اور عمل چھوڑ کر بیٹھ جانے سے منع کیا، چنانچہ جو شخص نوشۂ تقدیر پر بھروسہ کر کے اپنے فرائض سے پہلو تہی اختیار کرتا ہے وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا، جنھوں نے اپنی ساری تگ و دو دنیوی زندگی میں لگائی اور سب بیکار گئی، تقدیر پر بھروسہ کر کے اپنے فرائض سے پہلو تہی کرنا بھی درحقیقت اسی تقدیر کا حصہ ہے، جس کے مطابق ایسے شخص کے لیے بدبختی کے کام آسان کردیے گئے ہیں، پس سعادت مند وہ لوگ ہیں جو منہیات سے بچتے ہیں اور اوامر کو بجالاتے ہیں اور جو لوگ تقدیر پر بھروسہ کرکے آرام کرتے ہیں اور دینی فرائض کو چھوڑتے ہیں وہ بلاشبہ بدبختوں میں سے ہیں، ان کے لیے بدبختی کے اعمال آسان کردیے گئے ہیں، نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو جو جواب دیا اور انھوں نے نیز دیگر صحابہ کرامؓ نے آپﷺ سے تقدیر کے سلسلہ میں جو تعلیم پائی وہ بالکل برحق ہے اور حق و صداقت پر مبنی ہے۔

(مصنف عبدالرزاق: اثر نمبر 1744)۔