علم کے باوجود کسی رافضی کا جنازہ پڑھانے والے کا حکم -…

علم کے باوجود کسی رافضی کا جنازہ پڑھانے والے کا حکم


سوال:کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: 

1: ایک سنی صحیح العقیدہ امام کسی رافضی کا جنازہ پڑھائے، حالانکہ وہ جانتا بھی ہو کہ میت شیعہ ہے تو ایسے امام کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ دائرہ اسلام میں باقی رہے گا یا نہیں؟ نیز اس کے نکاح کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ 

2: ایک عام سنی جان بوجھ کر یعنی جانتا بھی ہو کہ میت رافضی شیعہ ہے، پھر بھی اس کا جنازہ پڑھے تو ایسے شخص کے بارے میں شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ نیز اسی طرح ایسا شخص جو کسی کے جنازے میں ثواب کی نیت سے شریک ہوا اور نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ میت شیعہ کی تھی تو ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ 

جواب: اگر مرنے والا ضروریاتِ دینِ اسلام کا منکر ہو اور کفریہ عقائد رکھتا ہو، مثلاً تحریفِ قرآن کا قائل ہو، حضرت علیؓ کی الوہیت کا معتقد ہو یا حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان باندھتا ہو یا حضرت صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کا منکر ہو وغیرہ تو ایسا شخص کافر، مرتد اور خارج از اسلام ہے، اس کے ان عقائدِ کفریہ کا علم ہونے کے باوجود اس کو مسلمان سمجھ کر اس کا جنازہ پڑھنے کو جائز سمجھنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اور اس کے لئے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح ضروری ہے، اور محض روا داری کی بناء پر یا اس کے عقائد کا علم نہ ہونے کی وجہ سے جنازہ پڑھنے والا مسلمان رہے گا، البتہ توبہ واستغفار کرنا چاہیے واضح رہے کہ اگر اس کی نمازِ جنازہ نا جائز سمجھتے ہوئے پڑھ لی ہے، تب بھی کافر نہیں البتہ گنہگار ضرور ہے۔ 

نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدة عائشة او انکر صحبة الصدیق او اعتقد الالوہیة فی علی او ان جبرئیل غلط فی الوحی او نحو ذلك من الكفر الصریح المخالف للقرآن ولکن لو تاب تقبل توبتہ۔ 

(شامی: جلد3 صفحہ321)

(ارشاد المفتین: جلد 1 صفحہ 502)