Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امت محمدیہ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نہایت شفیق ثابت ہوئے

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَيۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىۡ نَجۡوٰٮكُمۡ صَدَقَةًذٰلِكَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ وَاَطۡهَرُفَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞(سورۃ المجادلةآیت 12)

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم رسول سے تنہائی میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس تنہائی کی بات سے پہلے کچھ صدقہ کر دیا کرو۔ یہ طریقہ تمہارے حق میں بہتر اور زیادہ ستھرا طریقہ ہے۔ ہاں اگر تمہارے پاس (صدقہ کرنے کے لیے) کچھ نہ ہو تو اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

تو نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ سے کہا: ’’مُرْہُمْ اَنْ یَّتَصَدَّقُوْا‘‘ ان سے کہو صدقہ دیں۔ حضرت علیؓ نے پوچھا: کتنا؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’بِدْیِنْاَرٍ‘‘ ایک دینار۔ حضرت علیؓ نے کہا: ان کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’فَنِصْفُ دِیْنَارٍ‘‘ تو نصف دینار۔ حضرت علیؓ نے کہا: ان کے پاس اتنی بھی طاقت نہیں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: تب کتنا؟ حضرت علیؓ نے جواب د یا: ایک جو کے برابر سونا۔ اللہ کے رسولﷺ نے یہ سن کر علی سے کہا: ’’إِنَّکَ لَزَہِیْدٌ‘‘ تم بہت کم کرنے والے ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: 

ءَاَشۡفَقۡتُمۡ اَنۡ تُقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىۡ نَجۡوٰٮكُمۡ صَدَقٰتٍ‌فَاِذۡلَمۡ تَفۡعَلُوۡا وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيۡعُوااللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌبِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۞(سورۃ المجادلة آیت 13)

ترجمہ: کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی تنہائی کی بات سے پہلے صدقات دیا کرو؟ اب جبکہ تم ایسا نہیں کر سکے، اور اللہ نے تمہیں معاف کر دیا تو تم نماز قائم کرتے ہو، اور زکوٰۃ دیتے رہو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔ اور جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

پھر حضرت علیؓ کہا کرتے تھے، میری وجہ سے اللہ نے اس امت کے یے یہ آسانی پیدا کی۔

(سنن الترمذی، حدیث نمبر 3297) امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث ’’حسن غریب‘‘ ہے۔ امام البانی نے ضعیف موارد الظمان إلی زوائد ابن حبان: صفحہ 127، 128 پر اسے ضعیف کہا ہے۔)