سب سے زیادہ ہولناک اختلاف سیدنا حسن بن علی عسکریؒ کی وفات پر رونما ہوا امام موصوف کی ولادت 232ھ میں ہوئی تھی اور وفات شبِ جمعہ 8 ربیع الاول 260ھ کو 28 سال کی عمر میں ہوئی۔ نوبختی لکھتے ہیں:
بمرد و از وے نشا نے باز نہ ماند، چون در ظاہر فرزندے از وے نیافتند، میراث او درمیان برادرش جعفر و مادرش تقسیم کردند۔
(فرق الشیعہ: صفحہ139)
سیدنا حسن عسکریؒ کی اولاد نہ تھی شیعہ مصنف کا اعتراف:
ترجمہ: سیدنا حسن عسکریؒ کا انتقال ہوا تو ان کا کوئی نشانہ باقی نہ رہا جب لوگوں نے ظاہر میں ان کا کوئی لڑکا نہ پایا تو ناچار ان کی وراثت ان کی والدہ اور ان کے بھائی جعفر کے درمیان تقسیم کر دی۔
بہر حال سیدنا حسن عسکریؒ کے بعد ان کے مریدوں میں شدید اختلاف ہوا۔ نوبختی لکھتا ہے کہ ان کے مرید:
بر چہار ده دستہ شدند۔
(فرق الشیعہ: صفحہ139)
ترجمہ: یعنی ان کے چودہ فرقے ہو گئے۔
ان کی تفصیل نوبختی کے رسالہ میں دیکھ لی جائے خلاصہ یہ کہ ایک فرقہ نے ان کے بھائی سیدنا جعفرؒ کو امام مانا ایک فرقہ نے کہا کہ سیدنا حسن عسکریؒ مرے نہیں، بلکہ روپوش ہو گئے ہیں۔ وہ دوبارہ آئیں گے کیونکہ وہی مہدی قائم ہیں بعض نے کہا مر تو گئے ہیں مگر دوبارہ زندہ ہوں گے کیونکہ وہی مہدی قائم ہیں بعض نے کہا حسنؒ اور جعفرؒ دونوں بھائیوں کا دعویٰ غلط تھا امامت ان کے باپ پر ختم ہو گئی وغیرہ وغیرہ۔
ان چودہ فرقوں میں سب سے زیادہ دلچسپ موقف ان لوگوں کا تھا جو اس بات کے قائل ہوئے کہ سیدنا حسن عسکریؒ کا ایک بیٹا تھا جو 254ھ یا 256ھ میں پیدا ہوا تھا اور اس کی ولادت کو لوگوں سے مخفی رکھا گیا تھا یہ صاحب زادے چار پانچ سال کی عمر میں اپنے والد کے انتقال سے دس دن پہلے اپنے شہر سر من رای کے ایک غار میں جا چھپے اور وہ تمام چیزیں جو امامت کے لوازم ہیں اور سیدنا علیؓ سے لے کر ہر امام کے پاس رہا کرتی تھیں اور آخر میں سیدنا حسن عسکریؒ کے پاس تھیں مثلاً سیدنا علیؓ کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن، قدیم آسمانی کتابیں توریت، انجیل، زبور اور دیگر انبیاء کے صحائف، مصحفِ فاطمہ، جعفر احمر، جفر ابیض، ستر گز کا الجامعہ نامی صحیفہ، انبیاء سابقین کے معجزانہ تبرکات مثلاً عصائے موسیٰ، قمیص آدم اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کی انگشتری وغیرہ وغیرہ ان تمام چیزوں کا پشتاره بھی ساتھ لے گئے یہ تھا مشکلات کا وہ پہاڑ جس کو عبور کرنا امامیہ کے لیے ناممکن ہو گیا اور انہیں ان کے غائب ہو جانے کا اعلان کرنا پڑا انہی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا: شیعہ مذہب کا نظریہ امامت چونکہ فطری طور پر غلط تھا، اس لیے شیعہ مذہب بھی اس کا بوجھ زیادہ دیر تک نہ اٹھا سکا بلکہ اس نے اماموں کا سلسلہ بارہویں امام پر ختم کر کے اسے 260ھ میں کسی نامعلوم غار سر من رای کے غار میں ہمیشہ کے لیے غائب کر دیا۔