سیدنا علی رضا بن موسیٰ کاظم بن جعفر صادقؒ کا انتقال 203ھ میں ہوا اس وقت ان کے صاحب زادہ محمد بن علی (المعروف بہ سیدنا جواد) کی عمر سات سال کی تھی ان کی پیدائش 195ھ میں ہوئی اس لیے سیدنا علی رضاؒ کے بعد پھر اختلاف ہوا:
1: ایک گروہ نے کہا کہ محمد بن علی نابالغ ہی سہی، آخر امام زادہ ہے اسی کو امام بناؤ۔
2: ایک گروہ نے کہا کہ سیدنا علی رضاؒ کے بعد ان کے بھائی احمد بن موسیٰ بن جعفرؒ امام ہیں کیونکہ سیدنا رضاؒ نے اپنے بعد ان کے حق میں وصیت فرمائی تھی۔
3: ایک گروہ جو سیدنا علی رضاؒ کی امامت کا قائل تھا، وہ ان کے بعد کی امامت سے منحرف ہو گیا اور کہا امامت ان کے والد موسیٰ کاظمؒ پر ختم ہو گئی تھی اگر امامت کا سلسلہ آگے چلنا ہو تو سیدنا علی رضاؒ نابالغ بیٹا چھوڑ کر کیوں مرتے۔
4: کچھ لوگوں نے سیدنا علی رضاؒ کی وفات کے بعد عقیدہ امامت ہی کو خیر باد کہہ دیا اور انہوں نے مرجئی مذہب اختیار کر لیا۔
5: کچھ لوگوں نے موسیٰ سلسلہ سے منحرف ہو کر زیدیہ کا مذہب اختیار کر لیا۔
نوبختی لکھتے ہیں کہ: دو گروہوں کے احمد بن موسیٰ کی امامت کے قائل ہونے اور باقی گروہوں کے امامت سے منحرف ہو جانے کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا علی رضاؒ کے وصال کے وقت ان کے صاحب زادے سات سال کے تھے ان لوگوں نے کہا کہ امام بالغ ہونا چاہئے نا بالغ کی امامت کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟ اگر نا بالغ کو امام مانا جائے تو لازم آئے گا کہ نا بالغ بچہ مکلف ہو حالانکہ نا بالغ بچہ نہ مکلف ہو سکتا ہے نہ لوگوں کے درمیان فیصلے کر سکتا ہے، نہ شریعت کو پورا سمجھ سکتا ہے، نہ اس کی تعلیم دے سکتا ہے۔
(فرق الشیعہ: صفحہ128)
سیدنا محمد جواد بن علی رضا بن موسیٰ کاظمؒ کا وصال 220ھ میں ہوا نوبختی لکھتے ہیں کہ ان کے بعد امامت کا کوئی جھگڑا کھڑا نہیں ہوا بلکہ جو لوگ ان کی امامت کے قائل تھے، ان کے بعد ان کے صاحب زادے علی ہادی بن محمد جواد بن علی رضاؒ کے حلقہ بگوش ہو گئے حضرت کی ولادت 212ھ میں ہوئی تھی اور وہ والد بزرگوار کی وفات کے وقت شش سالہ تھے البتہ چند لوگ ان کے بھائی موسیٰ بن محمد کی امامت کے قائل ہوئے تاہم کچھ عرصہ کے بعد غالباً جب سیدنا علی بن محمد سن بلوغ کو پہنچے ہوں گے موسیٰ بن محمد کی امامت سے منحرف ہو کر ان کی امامت کے گرویدہ ہو گئے یہ دوسرا موقع تھا کہ شیعہ بامر مجبوری چھ سال کے نابالغ بچے کی امامت کے قائل ہوئے۔
آٹھواں اختلاف:
سیدنا علی ہادی کا وصال 254ھ میں ہوا ان کے بعد پھر امامت میں اختلاف ہوا۔
1: ان کے مریدوں کا ایک گروہ محمد بن بشیر نمیری نامی ایک شخص کی نبوت پر ایمان لے آیا یہ ایک ملحد شخص تھا اور اس نے محارم کے ساتھ نکاح اور مردوں کے ساتھ ہم جنس پرستی کو حلال قرار دے دیا تھا۔
2: ایک گروہ سیدنا علی ہادی کے صاحب زادہ محمد بن علی کی امامت کا قائل ہوا جن کا انتقال والد بزرگوار کی زندگی میں ہو گیا تھا ان لوگوں کا کہنا تھا کہ محمد بن علی مرے نہیں کیونکہ ان کے والد بزرگوار نے ان کو امامت کے لیے نامزد کیا تھا اور اپنے مریدوں کو بتایا تھا کہ ان کے بعد سیدنا محمد بن علی ہوں گے امام جھوٹ تو نہیں بولتے لہٰذا یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے والد بزرگوار نے دشمنوں کے اندیشے کی بنا پر ان کو غائب کر دیا اور وہی سیدنا مہدی ہیں۔
(فرق الشیعہ: صفحہ 137)
3: ایک گروہ نے سیدنا علی بن محمد کے بعد ان کے صاحب زادے سیدنا حسن عسکریؒ کو امام قرار دیا۔
4: اور کچھ لوگ سیدنا حسن کے بھائی جعفر بن علی کی امامت کے قائل ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیدنا علی نے اپنے صاحب زادہ محمد کی وفات کے بعد اپنے دوسرے صاحب زادہ جعفر کو امامت کے لیے نامزد کیا تھا۔
(فرق الشیعہ: صفحہ 138)