شیعہ کا نماز جنازہ پڑھانے والے کے ایمان اور نکاح کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک مسلمان آدمی شیعہ کا جنازہ پڑھتا ہے جب کہ اس کو اس بات کا علم ہے کہ یہ جنازہ شیعہ کا ہے تو ایسے آدمی کے ایمان اور نکاح کے بارے میں کیا حکم ہے؟ نیز ایک مسلمان لاعلمی میں شیعہ کا جنازہ پڑھتا ہے اور جنازہ پڑھنے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ یہ جنازہ شیعہ کا تھا مذکورہ دونوں حضرات کے ایمان اور نکاح کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: بشرطِ صحت سوال اگر آدمی کا رفض اس درجے کا ہے کہ حضرت علیؓ کی الوہیت کا قائل ہو یا شیخینؓ کو گالیاں دیتا ہو اور حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتا ہو تو ایسے آدمی کو ایک صحیح العقیدہ جانتے پہچانتے ہوئے اور جائز سمجھتے ہوئے اس کے جنازے میں شامل ہو جائے تو ایسے شخص کے لئے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح ضروری ہے اور اگر ایسے شخص کو جانتا پہچانتا نہیں ہے ویسے ہی جنازے میں شریک ہو گیا اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ غالی شیعہ تھا یا اس کے جنازے کو نا جائز سمجھتے ہوئے اس میں رسماً شریک ہوا ہو تو اس صورت میں تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں۔
و بہذا ظہران الرافضی ان کان ممن یعتقد الالوہیة فی علی او ان جبرئیل علیہ السلام غلط فی الوحی او کان ینکر صحبة الصدیق او یقذف السیدة الصدیقة فھو کافر لمخالفۃ القواطع المعلومة من الدین بالضرورة بخلاف ما اذا کان یفضل علیا او یسب الصحابة فانہ مبتدع لا کافر کما اوضحتہ فی کتابی تنبیہ الولاة والحکام على احکام الشاتم خیر الانام او احد اصحابہ الكرام علیھم الصلاة والسلام۔
(شامی: جلد، 2 صفحہ، 314)
الرافضی ان کان یسب الشیخین ویلعنھما والعیاذ باللہ فہو کافر۔
(ہندیہ: جلد2 صفحہ 264)
فنقول لا یصلى على الكافر ولا تصل علیہ لان الصلوٰة على المیت دعاء واستغفار و الاستغفار للكافر حرام۔
(محیط برہانی: جلد 3 صفحہ 82)
و شرطھا ستة اسلام المیت وطھارتہ۔
(در على الشامی: جلد 1 صفحہ 640)
ثم ان کانت نیة القائل الوجہ الذی یمنع التکفیر فھو مسلم وان کانت نیة الوجہ الذی یوجب التکفیر لا ینفعہ فتوى المفتى ویؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك و بتجدید النکاح بینہ وبین امرأتہ کذا فی المحیط۔
(ہندیہ: جلد، 3 صفحہ، 283)
و منھا ان استحلال المعصیة صغیرة کانت او کبیرة کونھا معصیة بدلالة قطعیة وکذا الاستهانة بھا کفر۔
(شرح فقہ الاکبر: صفحہ254)
(ارشاد المفتین: جلد1 صفحہ486)
