پہلا اختلاف:
سیدنا موسیٰ کاظم بن جعفر صادقؒ کا انتقال 183ھ میں ہوا اور ان کے بعد کے شیعوں کے چند گروہ ہو گئے۔
1: ایک گروہ ان کے صاحب زادے علی رضا کی امامت کا قائل ہوا۔
2: دوسرے گروہ نے کہا کہ سیدنا موسیٰ بن جعفر مرے نہیں، زندہ ہیں وہی مہدی قائم آل محمد ہیں۔
3: ایک گروہ نے کہا کہ وہ سیدنا مہدی ہیں مر گئے مگر مرنے کے فوراً بعد زندہ ہو کر کہیں روپوش ہو گئے ان کے خاص لوگ ان کی زیارت بھی کرتے ہیں اور وہ ان کو امر و نہی بھی فرماتے ہیں بہرحال وہ دوبارہ ظاہر ہوں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے۔
4: ایک گروہ نے کہا کہ وہ مر گئے ہیں لیکن آخری زمانہ میں دوبارہ زندہ ہوں گے اور وہی مہدی آخرالزماں ہوں گے۔
5: ایک گروہ نے کہا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر بلا لیا ہے آخری زمانے میں دوبارہ ان کو بھیجیں گے۔
نوبختی لکھتے ہیں:
همگی آنان واقفہ نامیده شوند زيرا کہ بر موسیٰ بن جعفر درنگ کرده گفتند و امام قائم است و پس از وے چشم براه امامی نبوده و بام دیگر نگر ویدند۔
(فرق الشیعہ: جلد1 صفحہ119)
ترجمہ: یہ تمام فرقے (جن کا ذکر نمبر 2 سے نمبر 5 تک ہوا ہے) کہلاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ سلسلہ امامت موسیٰ بن جعفر پر ختم کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہی سیدنا مہدی ہیں ان کے بعد کسی اور امام کا انتظار نہیں اور وہ ان کے بعد کسی امام کے قائل نہیں۔
6: ایک فرقہ اس کا قائل تھا کہ معلوم نہیں کہ موسیٰ بن جعفر زندہ ہیں یا فوت ہو گئے ہیں بہت سی روایات میں آیا ہے کہ وہ مہدی قائم ہیں ان خبروں کو جھوٹ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ موت برحق ہے اس لیے ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ کیے بغیر ہم ان کی امامت پر قائم ہیں۔
7: ایک گروہ نے محمد بن بشیر نامی ایک شخص کو ان کا جانشین مانا ان کا دعویٰ تھا کہ موسیٰ بن جعفر زندہ ہیں وہی مہدی قائم ہیں، فی الحال روپوش ہیں اور محمد بن بشیر کو آپ نے اپنا جانشین بنا رکھا ہے۔
(فرق الشیعہ: جلد1 صفحہ 121)