حضرت مہدی کے بارے میں شیعہ کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

حضرت مہدی کے بارے میں شیعہ کے تضادات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

تیسرا اختلاف:

سیدنا محمد باقرؒ کا انتقال ربیع الثانی 114ھ میں ہوا ان کے وصال کے بعد پھر امامت کے مسئلہ میں اختلاف کھڑا ہوا، جس کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:

مختلف اقوال:

1: ایک گروہ ان کو حی لا یموت سمجھتا تھا یعنی وہ زندہ ہیں مرے نہیں وہی سیدنا مہدی ہیں ان کے بعد کوئی امام نہیں۔  

2: ایک گروہ ان کے صاحب زادے زکریا کو آخری امام، سیدنا مہدی مانتا تھا۔  

3: ایک گروہ سیدنا محمد بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علیؓ بن ابی طالب کو جو نفسِ زکیہ کے لقب سے ملقب ہیں کی امامت کا قائل تھا یہ لوگ ان کو مہدی آخر الزماں جانتے تھے تاریخ میں منصور عباسی کے خلاف ان کا خروج معروف و مشہور ہے۔  

4: ایک گروہ سیدنا جعفر صادقؒ کی امامت کا قائل ہوا اس گروہ کے کرتا دھرتا وہی لوگ تھے جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔

چوتھا اختلاف:

سیدنا جعفر صادقؒ متوفی 148ھ کے بعد پھر اختلاف رونما ہوا اور شیعوں کی بہت سی جماعتیں وجود میں آئیں۔  

1: ایک گروہ کا عقیدہ تھا کہ وہ سیدنا مہدی ہیں ان کے بعد کوئی امام نہیں، ان کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وہ روپوش ہو گئے ہیں، دوبارہ ظاہر ہوں گے یہ فرقہ ناووسیہ کہلاتا تھا۔  

2: بعض لوگ ان کے بعد ان کے صاحب زادے موسیٰ بن جعفرؒ کی امامت کے قائل ہوئے۔  

3: ایک گروہ سیدنا جعفرؒ کے صاحب زادے اسماعیل بن جعفرؒ کی امامت کا قائل ہوا یہ لوگ ان کو سیدنا مہدی جانتے تھے یہ اسماعیلی فرقہ کہلاتا ہے۔  

4: ایک گروہ جعفر کے پوتے محمد بن اسماعیل بن جعفرؒ کی امامت کا قائل ہوا یہ فرقہ مبارکیہ ہے جو اسماعیلیوں کی ایک شاخ ہے اس کے بعد اسماعیلیوں کے بہت سے فرقے ہوئے، جن کی ایک طویل تاریخ ہے۔  

5: ایک گروہ سیدنا جعفرؒ کے تیسرے صاحب زادے سیدنا محمد بن جعفرؒ کی امامت کا قائل ہوا رجال کشی میں ہے:  

والذين قالوا بامامته عامه مشائخ العصابه، وفقهاؤها مالوا الى هذه المقاله فدخلت عليهم الشبهه لما روى عنهم (عليهم السلام) انهم قالوا الامامه فى الاكبر من ولد امام اذا مضى۔  

(رجال کشی: صفحہ254)  

ترجمہ: جو لوگ ان کی امامت کے قائل ہوئے، وہ شیعہ گروہ کے عام مشائخ تھے اور ان کے فقہاء بھی اسی عقیدہ کی طرف مائل ہوئے ان کو شبہ اس بناء پر ہوا تھا کہ ائمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ امام کے انتقال کے بعد امامت، امام کے بڑے صاحبزادے کو پہنچتی ہے (چونکہ اسماعیل کے بعد سب سے بڑے صاحب زادے عبد اللہ الافطح ہیں لہٰذا وہی امام ہیں)

نوبختی لکھتے ہیں: چونکہ عبد اللہ اپنے والد سیدنا جعفرؒ کے انتقال کے وقت ان کے تمام فرزندوں کے سردار تھے اور اپنے والد کی جگہ بیٹھے تھے، اس لیے انہوں نے اپنے والد کے بعد امامت و جانشینی کا دعویٰ کر دیا ان کے پیرو سیدنا جعفرؒ کی یہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ امامت فرزندانِ امام میں سے سب سے بڑے کی ہے اس بناء پر بہت سے لوگ جو سیدنا جعفرؒ کو امام مانتے تھے ان کے بعد ان کے بیٹے عبد اللہ کی امامت کے معتقد ہوئے سوائے چند گنے چنے آدمیوں کے، جنہوں نے سچے امام کو پہچانا با وجودیکہ عبد اللہ حلال و حرام کے مسائل کا صحیح جواب نہ دے سکتے تھے لیکن اس کے باوجود زیادہ تر بزرگانِ شیعہ اور ان کے فقہاء اس عقیدہ کے معتقد رہے اور عبد اللہ کی امامت سے بدگمان نہ ہوئے۔  

(فرق الشیعہ: جلد1 صفحہ113)