قرآن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر اس کے اثرات -…

قرآن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر اس کے اثرات

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً‌وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏۞ (سورۃ النحل آیت 97)

ترجمہ: جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

امیر المؤمنین علیؓ نے قرآن کا بغور مطالعہ کر کے انسان اور شیطان کے درمیان جاری جنگ کی حقیقت کو پہچانا اور بخوبی آگاہ ہوئے کہ شیطان انسان پر اس کے آگے پیچھے، دائیں اور بائیں ہر طرف سے حملہ آور ہوتا ہے، اسے گناہ کرنے پر ابھارتا ہے اور اس کی خفتہ شہوات کو ہوا دیتا ہے، اسی وجہ سے آپ اپنے دشمن کو شکست دینے کے لیے اللہ سے ہمیشہ مدد مانگتے تھے اور اپنی پوری زندگی اس معرکہ میں کامیاب رہے، قرآن کریم میں آدم اور ابلیس کا واقعہ پڑھا اور اس حقیقت تک پہنچے کہ آدم علیہ السلام ہی سے بنی نوع انسان کا وجود ہوا ہے اور اسلام کی روح یہ ہے کہ اللہ کی مطلق اطاعت کی جائے، نیز یہ کہ انسان سے غلطی و گناہ واقع ہو سکتے ہیں۔ آدم علیہ السلام کی لغزش سے آپ نے یہ بھی سیکھا کہ مسلمان کو اللہ کی ذات پر اعتماد اور کامل توکل کرنا چاہیے اور یہ کہ مومن کی زندگی میں توبہ و استغفار کی کافی اہمیت ہے، اسے حسد اور تکبر و غرور سے بچانا ضروری ہے اور ہر چیز پر اللہ کی رضا کو مقدم کرنا لازم ہے، نیز یہ کہ اپنے رفقاء و دینی بھائیوں کے ساتھ بہتر انداز میں گفتگو کرنا چاہیے۔ ارشاد الہٰی ہے:

وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُواالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا۞(سورۃ الإسراء آیت 53)

ترجمہ: میرے (مومن) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے۔

سیدنا علیؓ نے مختلف عبادات کے ذریعہ سے اپنے احباب و رفقاء کی روحانی تربیت اور قلبی تطہیر کے لیے نبی کریمﷺ کا اسلوب اختیار کیا اور انھیں قرآن کریم کے اخلاقی منہج پر گامزن کیا۔


صفحہ 4 از 4