قرآن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر اس کے اثرات -…

قرآن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر اس کے اثرات

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

وَمَا تَكُوۡنُ فِىۡ شَاۡنٍ وَّمَا تَتۡلُوۡا مِنۡهُ مِنۡ قُرۡاٰنٍ وَّلَا تَعۡمَلُوۡنَ مِنۡ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيۡكُمۡ شُهُوۡدًا اِذۡ تُفِيۡضُوۡنَ فِيۡهِ‌وَمَا يَعۡزُبُ عَنۡ رَّبِّكَ مِنۡ مِّثۡقَالِ ذَرَّةٍ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ وَلَاۤ اَصۡغَرَ مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرَ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ۞(سورۃ يونس آیت 61)

ترجمہ: اور (اے پیغمبر) تم جس حالت میں بھی ہوتے ہو اور قرآن کا جو حصہ بھی تلاوت کرتے ہو اور (اے لوگو) تم جو کام بھی کرتے ہو، تو جس وقت تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو ہم تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اور تمہارے رب سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمان میں، نہ اس سے چھوٹی، نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔

اور تقدیر پر ایمان لانے کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی واقع ہوگا اسے اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے:

اِنَّا نَحۡنُ نُحۡىِ الۡمَوۡتٰى وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَاٰثَارَهُمۡ وَكُلَّ شَىۡءٍ اَحۡصَيۡنٰهُ فِىۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ يس آیت 12)

ترجمہ: یقیناً ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے، اور جو کچھ عمل انہوں نے آگے بھیجے ہیں ہم ان کو بھی لکھتے جاتے ہیں اور ان کے کاموں کے جو اثرات ہیں ان کو بھی۔ اور ہم نے ایک واضح کتاب میں ہر ہر چیز کا پورا احاطہ کر رکھا ہے۔ 

آپ اس حقیقت سے اچھی طرح آشنا تھے کہ انسانوں کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور عمدہ شکل و صورت، معتدل قد و قامت، عقل، قوت گویائی اور اچھے برے کی تمیز کا ملکہ دے کر اسے اعزاز بخشا، اس کے لیے زمین و آسمان کو مسخر کیا، اسے دیگر مخلوقات پر فضیلت عطا کی اور اس کے درمیان انبیاء کو بھیج کر اس پر احسان کیا، انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی تکریم و اعزاز کی سب سے بڑی علامت تو یہ ہے کہ اس نے اسے اپنی محبت و رضا کا اہل قرار دیا کہ جسے انسان اس نبی مکرمﷺ کی اتباع کے ذریعہ سے حاصل کر سکتا ہے، جس نے دنیا میں بہترین زندگی گزارنے اور آخرت کی ابدی نعمتوں سے سرفراز کرنے کے لیے اسے اسلام کی طرف دعوت دی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً‌وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏۞ (سورۃ النحل آیت 97)

ترجمہ: جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

تقدیر کے تیسرے درجہ پر آپ کو اس طرح یقین تھا کہ لوح محفوظ میں ضبط کی ہوئی چیزوں کو اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نافذ کرتا ہے، اسے اس پر مکمل قدرت ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَمَاكَانَ اللّٰهُ لِيُعۡجِزَهٗ مِنۡ شَىۡءٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الۡاَرۡضِ اِنَّهٗ كَانَ عَلِيۡمًا قَدِيۡرًا‏۞ (سورۃ فاطر آیت 44)

ترجمہ: اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں یا زمین کی کوئی چیز اسے عاجز کر سکے۔ بیشک وہ علم کا بھی مالک ہے، قدرت کا بھی مالک۔

تقدیر کے آخری و چوتھے درجہ پر حضرت علیؓ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ اپنی مرضی و مشیت کے مطابق جس چیز کو چاہتا ہے دنیا میں وجود بخشتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ‌ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌خَالِقُ كُلِّ شَىۡءٍ فَاعۡبُدُوۡهُ‌ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ وَّكِيۡلٌ۞ (سورۃ الأنعام آیت 102)

ترجمہ: لوگو! وہ ہے اللہ جو تمہارا پالنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہر چیز کا خالق ہے۔ لہٰذا اس کی عبادت کرو۔ وہ ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے۔

چنانچہ ایمان بالقضاء و القدر کے اس صحیح مفہوم اور دل و دماغ میں اس عقیدہ کے رسوخ و استحکام سے نہایت نفع بخش و کار آمد نتائج سامنے آئے اور اس کے اثرات آپ کی زندگی میں نمایاں رہے، آپ نے قرآن پڑھا، غور کیا، اور جسم و جان، بلکہ پوری بنی نوع انسانیت کی حقیقت کو پہچانا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ انسانی وجود کی دو بنیادی اساس ہیں، ایک وہ جسے ’’خلقت اوّل‘‘ کہا جاتا ہے جس میں انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا، اسے اللہ نے سنوارا اور برابر کیا، پھر اس میں روح پھونکی اور دوسرا وہ جس میں نوع انسانی کی تخلیق نطفہ سے ہوئی۔

(اصول التربیۃ: النحلاوی: صفحہ 31)۔

چنانچہ ارشاد الہٰی ہے:

الَّذِىۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗ‌ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ۞ ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ‌۞ ثُمَّ سَوّٰٮهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ‌ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡئِدَةَ ‌قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ۞ (سورۃ السجدة آیت 7 تا 9)

ترجمہ: اس نے جو چیز بھی پیدا کی، اسے خوب بنایا، اور انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی۔ پھر اس کی نسل ایک نچوڑے ہوئے حقیر پانی سے چلائی۔ پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اور (انسانو) تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا کیے۔ تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔

حضرت علیؓ نے اس حقیقت کو اچھی طرح پہچانا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اچھی شکل و صورت اور معتدل قد و قامت کے ذریعہ سے شرف بخشا اور اسے عقل و تمیز اور قوت گویائی عطا فرمائی۔ آسمان و زمین کی تمام اشیاء کو اس کے لیے مسخر فرمایا اور بہت سی مخلوقات پر اس کو فضیلت بخشی اور انبیاء و رسل کو مبعوث کر کے اس کو عز و شرف بخشا۔ آپ کے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ انسان کے تکریم الہٰی کے مظاہر میں سے بہترین مظہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی محبت و رضا کا اہل قرار دیا اور یہ نبی کریمﷺ کی سچی اتباع سے حاصل ہو سکتی ہے جنھوں نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تاکہ دنیا میں پاکیزہ زندگی گزاریں اور آخرت میں دائمی نعمت سے سرفراز ہوں۔

 ارشاد الہٰی ہے:

صفحہ 3 از 4