قرآن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر اس کے اثرات -…

قرآن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر اس کے اثرات

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

ترجمہ: بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے۔

اسی طرح آپ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس توحید اور عبودیت کے مضمون و تقاضا کو خاص طور سے قرآن میں ذکر کیا ہے۔ رہا کائنات کے بارے میں آپ کا تصور تو اس سلسلہ میں آپ کے سامنے اللہ کا یہ فرمان تھا:

قُلۡ اَئِنَّكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِىۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا‌ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ‌۞ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِىَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِىۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِيۡنَ۞ ثُمَّ اسۡتَـوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآئِعِيۡنَ۞ فَقَضٰٮهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَاَوۡحٰى فِىۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا‌وَزَيَّـنَّـا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ وَحِفۡظًا ذٰ لِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ۞ (سورۃ فصلت آیت 9، 10، 11، 12)

ترجمہ: کہہ دو کہ: کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو؟ وہ ذات تو سارے جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے۔ اور اس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے جو اس کے اوپر ابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی اور اس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیدا کیں۔ سب کچھ چار دن میں تمام سوال کرنے والوں کے لیے برابر۔ چنانچہ اس نے دو دن میں اپنے فیصلے کے تحت ان کے سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو چراغوں سے سجایا اور اسے خوب محفوط کر دیا۔ یہ اس ذات کی نپی تلی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی مکمل۔

آپ کو دنیوی زندگی کے بارے میں کامل یقین تھا کہ یہ خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو جائے، بالآخراس کا انجام زوال و فنا ہی ہے، اس کی آسائشیں کتنی ہی کیوں نہ میسر ہوں، تاہم وہ کم اور بےوقعت ہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ هَشِيۡمًا تَذۡرُوۡهُ الرِّيٰحُ‌ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقۡتَدِرًا۞ اَلۡمَالُ وَالۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًاوَّخَيۡرٌ اَمَلًا۞(سورۃ الكهف آیت 46)

ترجمہ: اور ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی یہ مثال بھی بیان کردو کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، تو اس سے زمین کا سبزہ خوب گھنا ہوگیا، پھر وہ ایسا ریزہ ریزہ ہوا کہ اسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔ مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں، اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔

اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہر مسلم فرد کے لیے زندگی کی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دنیا اصل کرامت اور اعزاز کا مسکن نہیں ہے، بلکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے، ان آیات میں یہ ہدایت ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا سچا محب ہو اسے اپنی ہر خواہش پر اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی کو مقدم رکھنا چاہیے، اگرچہ اس کے لیے زندگی اور دنیا کی تمام آسائشوں کی قیمت چکانا پڑے۔ اس حقیقت کو حضرت علیؓ نے ان الفاظ سے تعبیر کیا ہے ’’دور رہ، دور رہ، میں نے تجھے تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اب رجعت کی گنجائش نہیں، تیری زندگی بڑی مختصر اور تیرا خوف بہت کم ہے، ہائے افسوس! آخرت کی زندگی کہ اس کا زاد سفر بہت کم ہے اور سفر لمبا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔ (الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1108)۔

حضرت علیؓ نے جنت اور حصول جنت کا عقیدہ ان آیات سے سیکھا تھا، جن میں ان دونوں کی کیفیت بتائی گئی ہے، پھر آپ ان لوگوں میں سے ہوگئے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 

تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۞ فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِىَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ‌جَزَآءًبِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ۞(سورۃ السجدة آیت 16، 17)

ترجمہ: ان کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا ہوتے ہیں وہ اپنے پروردگار کو ڈر اور امید (کے ملے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، وہ اس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

جہنم کے بارے میں بھی حضرت علیؓ کا تصور قرآنی تعلیمات کا پرتو تھا جس نے آپ کی زندگی میں شریعتِ الہٰی سے کبھی انحراف نہ ہونے دیا، آپ کی زندگی کا بغور مطالعہ کرنے والے کو صاف نظر آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مر مٹنے کا جذبہ اور اس کی گرفت و عذاب سے سخت خوف کا احساس آپ پر مکمل طور سے غالب تھا، اس باب کے تابندہ نقوش ان شاءاللہ اس کتاب میں آگے آئیں گے۔

’’قضاء و قدر‘‘ کے بارے میں صحیح مفہوم بھی آپ نے قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی سے حاصل کیا تھا اور وہ آپ کے دل و دماغ میں اچھی طرح راسخ ہوگیا تھا۔ قضاء اور قضاء کے درجات و مراتب (قضاء و قدر پر ایمان کے چار مراتب ہیں:

1: اللہ کے علم محیط پر ایمان 

 2: کتابت تقدیر پر ایمان 

3: اللہ کی نافذ ہونے والی مشیت و ارادہ پر ایمان 4: اللہ کے ہر چیز کا خالق ہونے پر ایمان۔ مترجم)

کا بھی آپ کو ادراک تھا، چنانچہ اس کے پہلے درجہ یعنی ’’علم الہیٰ‘‘ کے بارے میں آپ کو یقین تھا کہ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے:

صفحہ 2 از 4