سیدنا زین العابدین رحمۃاللہ کی امامت پر اختلاف - ردِ رافضیت…

سیدنا زین العابدین رحمۃاللہ کی امامت پر اختلاف

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

دوسرا اختلاف:

سیدنا علی بن حسینؓ زین العابدینؒ کا انتقال محرم 94ھ میں ہوا ان کے بعد پھر امامت کے مسئلے پر طوفان کھڑا ہوا ان کے صاحبزادے سیدنا زید بن علی (جو زید شہیدؒ کے لقب سے معروف ہیں) امامت کے مدعی ہوئے انہوں نے چالیس ہزار کے لشکر کے ساتھ والیِ عراق کے خلاف خروج کیا شیعہ سنیعہ میں سے تیس ہزار افراد نے عین موقع پر ان سے بے وفائی کی اور سیدنا حسینؓ شہیدِ کربلا کی سنت پھر تازہ ہوئی سیدنا زید نے جامِ شہادت نوش کیا ان کی امامت کے قائلین زیدیہ کہلائے اور ان میں سے بہت سے ان کے مہدی ہونے کے بھی قائل ہیں۔ 

کچھ لوگ سیدنا حسن مثنیٰ بن حسن مجتبیٰؓ کی امامت کے قائل ہوئے ان کے بعد ان کے صاحب زادے عبد اللہ محض کی اور ان کے بعد صاحب زادے محمد نفس زکیہ کی امامت کے قائل ہوئے یہ لوگ ان کو سیدنا مہدی سمجھتے ہیں کچھ لوگ سیدنا علی بن حسینؓ کے دوسرے صاحب زادے سیدنا محمد باقر بن علی بن حسینؓ کے قائل ہوئے ان میں چار افراد نامور تھے رجال کشی میں سیدنا صادقؒ کا قول نقل کیا ہے:  

شیعہ مذہب کے بانی چار آدمی تھے اصول کافی کا اقرار:

219 حدثنی حمدویه: قال حدثنی يعقوب بن يزيد، عن ابن ابی عمير، عن هشام بن سالم، عن سليمان بن خالد الاقطع، قال سمعت ابا عبد الله يقول ما احد احيی ذكرنا واحاديث ابی عليه السلام الا زراره وابو بصير ليث المرادی و محمد بن مسلم و بريد بن معاويه العجلی و لو لا هؤلاء ما كان احد يستنبط هذا، هؤلاء حفاظ الدين و امناہ ابی عليه السلام على حلال الله وحرامه وهم السابقون الينا فی الدنيا والسابقون الينا فی الاخره۔  

(رجال کشی: صفحہ136) 

ترجمہ: نہیں ہے کوئی، جس نے زندہ کیا ہو ہمارے ذکر کو اور میرے والد سیدنا باقرؒ کی احادیث کو سوائے چار شخصوں کے زرارہ، ابو بصیر لیث مرادی، محمد بن مسلم، برید بن معاویہ عجلی اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو کسی کے لیے ممکن نہ تھا کہ اس عقیدہِ امامت کا استنباط کر سکتا یہ چار آدمی دین کے محافظ اور اللہ کے حلال و حرام پر میرے باپ کے امین ہیں یہی لوگ سبقت کرنے والے ہیں ہماری طرف دنیا میں اور یہی سبقت کرنے والے ہیں ہماری طرف آخرت میں۔

سیدنا صادقؒ نے واقعی سچ فرمایا یہی چار آدمی دوسرے چار کے ساتھ مل کر شیعہ مذہب کے مصنف ہیں یہ لوگ نہایت بد عقیدہ تھے محض اپنی مطلب براری کے لیے ائمہ کا نام لیتے تھے ورنہ در حقیقت وہ ائمہ کے قائل ہی نہیں تھے وہ ائمہ پر نکتہ چینیاں کرتے تھے ائمہ ان پر سو سو لعنتیں بھیجتے تھے اور ان کو جھوٹا بتاتے تھے جب ان چالاک اور مکار لوگوں کو بتایا جاتا کہ امام تو تمہیں جھوٹا کہتے ہیں تو یہ لوگ جواب دیتے: امام ایسا تقیتاً کہتے ہیں رجال کشی اور دیگر شیعہ کتابوں میں اس کی تفصیلات موجود ہیں مذکورہ راویوں کے بارے میں ائمہ کی تفصیلی آراء جاننے کے لیے راقم کی کتاب تعليمات آل رسول رہنما ثابت ہو سکتی ہے۔