تیسرا گروہ:
ان لوگوں کا تھا جو سیدنا زین العابدینؒ کی امامت کے قائل تھے اور یہ چند اشخاص تھے رجال کشی میں سیدنا صادقؒ سے نقل کیا ہے:
193 محمد بن نصیر قال حدثنی محمد بن عیسیٰ عن جعفر بن عیسیٰ عن صفوان عمّن سمعه عن ابی عبد الله عليه السلام (ع) قال ارتد الناس بعد قتل الحسین عليه السلام الا ثلاثة ابو خالد الكابلی ویحییٰ بن ام الطویل و جبیر بن مطعم ثم ان الناس لحقوا وکثروا۔
(رجال کشی: صفحہ 123)
ترجمہ: قتلِ سیدنا حسینؓ کے بعد سب لوگ مرتد ہو گئے تھے سوائے تین آدمیوں کے یعنی ابو خالد کابلی، یحییٰ بن ام الطویل اور جبیر بن مطعم بعد میں لوگ آ ملے اور زیادہ ہو گئے۔
الغرض ان دنوں سیدنا محمد بن حنفیہؒ کی امامت کا غلغلہ تھا اور سیدنا زین العابدینؒ کی امامت کا کوئی نام بھی نہ لیتا تھا۔ خود سیدنا زین العابدینؒ دعوائے امامت سے کوسوں دور تھے کربلا کے مناظر ان کے چشم دید تھے شیعہ راویوں نے تو ان سے یہاں تک منسوب کیا ہے کہ وہ یزید کی غلامی کا اقرار کرتے تھے روضہ کافی میں ان کے صاحب زادہ سیدنا باقرؒ سے نقل کیا ہے کہ یزید بن معاویہ حج کو جاتے ہوئے مدینہ آیا اس نے ایک قریشی کو بلایا اور کہا کیا تم اقرار کرتے ہو کہ تم میرے غلام ہو؟ اس نے انکار کیا تو اسے قتل کر دیا:
ثم ارسل الى علی بن الحسين فقال له: مثل مقالته للقرشی فقال له علی بن الحسين ارأيت ان لم اقر لك اليس تقتلنى كما قتلت الرجل بالأمس فقال له يزيد لعنه الله: بلى فقال له علی بن الحسين قد اقررت لك بما سأله انا عبد مكره فان شئت فامسك وان شئت فبع۔
(روضہ کافی: جلد8 صفحہ235)
ترجمہ: پھر اس نے سیدنا علی بن حسینؓ کو بلا بھیجا۔ ان سے بھی وہی بات کہی جو قریشی سے کی تھی سیدنا علی بن حسینؓ نے فرمایا کہ اگر میں تیری غلامی کا اقرار نہ کروں تو کیا تو مجھے اسی طرح قتل نہ کر دے گا جیسے کل قریشی کو قتل کیا تھا؟ یزید نے کہا، یقیناً سیدنا علی بن حسینؓ نے فرمایا تو نے جو پوچھا ہے میں اس کا اقرار کرتا ہوں میں بے بس غلام ہوں، تو چاہے تو اپنے پاس رکھ اور چاہے تو مجھے فروخت کر دے۔
چوتھا گروہ:
وہ تھا جو اس کے قائل تھے کہ سیدنا حسینؓ کے بعد امامت ختم ہو گئی امام بس یہی تین تھے سیدنا علیؓ، سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ یہ لوگ سیدنا حسینؓ کے بعد کسی کی امامت کے قائل نہیں تھے۔
(فرق الشیعہ: صفحہ 84)
پانچواں گروہ:
ان لوگوں کا تھا جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ امامت صرف اولادِ سیدنا حسینؓ کا حق نہیں بلکہ سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ دونوں کی اولاد میں جو بھی امامت کے لیے کھڑا ہو جائے اور لوگوں کو اپنی طرف علانیہ دعوت دے، وہ سیدنا علیؓ کی طرح امامِ واجب الاطاعت ہے جو شخص اس سے سرتابی کرے یا اس کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنی امامت کی دعوت دے، وہ کافر ہے اسی طرح سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی اولاد میں جو شخص امامت کا دعویٰ کرے مگر دروازہ بند کر کے گھر میں بیٹھ رہے وہ اور اس کے تمام پیروکار مشرک و کافر ہیں۔
(ایضاً: صفحہ 85)