حضرت جعفر صادق رحمۃاللہ کی طرف مختار ثقفی پر تنقید - ردِ…

حضرت جعفر صادق رحمۃاللہ کی طرف مختار ثقفی پر تنقید

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

مختار کذاب تھا سیدنا محمد بن حنفیہؒ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتا تھا چنانچہ رجال کشی میں ہے کہ:  

198 محمد بن الحسن و عثمان بن حامد، قالا حدثنا محمد بن يزداد الرازی، عن محمد بن الحسين بن ابی الخطاب، عن عبد الله المزخرف، عن حبيب الخثعمی، عن ابی عبد الله قال كان المختار يكذب على علی بن الحسين عليهما السلام۔  

(رجال کشی: صفحہ125)  

ترجمہ: سیدنا صادقؒ فرماتے ہیں کہ مختار، سیدنا زین العابدینؒ کے نام پر جھوٹ بکتا تھا۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا لیکن عجائب میں سے ہے کہ سیدنا زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہما اس کذاب کے حق میں جزاہ اللہ خیراً فرماتے تھے کیونکہ اس نے سیدنا حسینؓ کا انتقام لیا تھا۔ 

(رجال کشی: صفحہ 127)

اور ان کے صاحبزادے سیدنا محمد باقرؒ اس بد بخت کے لیے دعائے لعنت فرماتے تھے۔ 

(ایضاً: صفحہ46)

نور اللہ شوستری مجالس المؤمنین میں لکھتے ہیں:  

مختار بن ابی عبید العبید رحمہ اللہ تعالیٰ علامہ حلی اورا الرحمہ مقبولان شمرده۔  

 (مجالس المؤمنین :مطبوعہ تہران: صفحہ15، بحوالہ نصیحت الشیعہ: صفحہ132)  

ترجمہ: مختار بن ابی عبید ثقفیؒ علامہ حلی نے اس کو مقبولانِ بارگاہِ الٰہی میں شمار کیا ہے۔

یہیں سے حضراتِ امامیہ کی انصاف پسندی و دانش مندی اور اہلِ بیتِ اطہارؓ سے اس کی محبت کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ سیدنا حسنؓ اس شخصیت سے صلح کرتے ہیں اور حضرات حسنین رضی اللہ عنہما جس کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں، یعنی سیدنا امیرِ معاویہؓ وہ تو ان کے نزدیک لعنۃ اللہ علیہ ہے اور جھوٹا مدعیِ نبوت مختار ثقفی کذاب ان کے نزدیک مقبولانِ الٰہی میں شمار کیا جاتا ہے حسنینؓ کی بیعت کا واقعہ رجال کشی میں سیدنا صادقؒ سے اس طرح نقل کیا ہے:  

حدثنا محمد بن عبد الحميد العطار الكوفى، عن يونس عن فضيل غلام محمد بن راشد، قال سمعت ابا عبد الله يقول ان معاويه كتب الى الحسن بن على (صلوٰات اللہ عليهما) ان اقدم انت والحسين و اصحاب على فخرج معهم عيس بن سعد بن عباده الانصارى وقدم العام اخازن لهم معاويه واعد لهم الخطباء، فقال يا حسن قم فبايع فقام فبايع ثم قال للحسين قم فبايع فقام فبايع۔  

(رجال کشی: صفحہ110)  

ترجمہ: سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو لکھا، آپ اور آپ کے ساتھ سیدنا حسینؓ اور اصحابِ علیؓ تشریف لائیں چنانچہ دونوں کے ساتھ قیس بن سعد بن عبادہؓ انصاری شام گئے سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان کو اجازت دی اور ان کے لیے خطباء تیار کیے پھر کہا: اے حسن! اٹھ کر بیعت کیجیے آپ اٹھے اور بیعت کی پھر کہا: اے حسین! اٹھ کر بیعت کیجیے چنانچہ وہ بھی اٹھے اور بیعت کی۔

الغرض حضرات امامین ہمامین الحسنؓ و الحسینؓ نے جس شخصیت کے ہاتھ پر بیعت کی، شیعہ صاحبان اس کو تو لعنۃ اللہ علیہ سے یاد کرتے ہیں اور جس ملعون نے نبوت کا دعویٰ کیا اور وہ ائمہ پر جھوٹ طوفان باندھتا تھا یعنی مختار کذاب، وہ ان کے نزدیک رحمۃ اللہ ہے اور اسے مقبولانِ بارگاہِ الٰہی میں شمار کرتے ہیں۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ ۞