مختار ثقفی کی ستم کاری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختار ثقفی کی ستم کاری

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جو حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کے بعد سیدنا علیؓ کے تیسرے صاحبزادے سیدنا محمد بن حنفیہؒ کی امامت کے قائل ہوئے چنانچہ مختاریہ اور کیسانیہ نے محمد بن علی ابنِ حنفیہؒ کی امامت کا علم بلند کیا اور قاتلینِ حسین سے انتقام لینا شروع کیا اس فرقہ کا عظیم ترین قائد مختار بن ابی عبید کذاب تھا رجال کشی میں ہے:  

والمختار هو الذی دعا الناس الى محمد بن علی بن ابی طالب ابن الحنفیه وسمتو الکیسانیه وهم المختاريه و کان لقبه کیسان وكان لا یلیه عن رجل من اعداء الحسنين انه فی ھو اوفی موضع الاقصدہ فھدم الدار بأسرها وقتل كل من فيها من ذى و كل دار بالكوفه خراب فهی مما هدهما۔  

(رجال کشی: صفحہ127)  

ترجمہ: اور مختار وہ شخص ہے جس نے لوگوں کو محمد بن علی بن ابی طالب ابن الحنفیہؒ کی امامت کی دعوت دی اس کی پارٹی کو کیسانیہ اور مختاریہ کہا جاتا ہے کیسان خود اسی کا لقب تھا اور سیدنا حسینؓ کے دشمنوں میں سے کسی شخص کے بارے میں جب اس کو یہ خبر پہنچتی کہ وہ فلاں مکان میں یا فلاں جگہ میں ہے، یہ فوراً وہاں پہنچ جاتا پورے مکان کو منہدم کر دیتا اور اس میں جتنی ذی روح چیزیں موجود ہوتیں، سب کو قتل کر دیتا کوفہ میں جتنے مکان ویران ہیں، یہ سب اسی کے ڈھائے ہوئے ہیں۔