شیعہ کے لئے ایصال ثواب کرنے اور ایسے حافظ کے پیچھے نماز…

شیعہ کے لئے ایصال ثواب کرنے اور ایسے حافظ کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم


سوال :زید حافظِ قرآن اور ایک مسجد میں امام ہے اور زید کو ایک شیعہ نے اپنے قبرستان میں قرآنِ شریف پڑھنے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے زید روزمرہ صبح کو شیعہ قبروں پر ایک پارہ یا کم و بیش پڑھ کر ایصالِ ثواب کرتا ہے چند مسلمانوں نے زید پر اعتراض کیا بوجہ مندرجہ بالا زید کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے عبداللہ بن ابی منافق یہودی کے لیے ایصالِ ثواب کیا اور شیعہ مذہب پر علمائے حنفیہ نے متفقہ فتویٰ نہیں دیا، ایسی صورت میں جب کہ وہ مسلمان ہیں، یقیناً اس کی مذہب رکاوٹ نہیں کرتا۔

اندریں حالت دریافت طلب امر یہ ہے کہ شیعہ پر ایصالِ ثواب بصورتِ مندرجہ بالا جائز ہے یا نہیں؟ اگر شیعہ کی قبور پر ایصالِ ثواب جائز ہے تو اس قسم کا نزاع بین المسلمین پیدا کرنے والے اشخاص کس حکم میں ہیں؟ 

جواب:ان کے عقائد دریافت کر لیے جائیں، اگر وہ شیعہ عقیدہ کفریہ رکھتے تھے تو ان کے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کرنا حرام ہے اس صورت میں اگر باز نہ آئے اور اس سے بہتر امامت کا اہل دوسرا شخص موجود ہو تو اس دوسرے کو امام بنانا چاہیے، زید کو امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے اور عبداللہ بن ابی کے واقعہ سے زید کا استدلال کرنا صحیح نہیں، کیونکہ جب حضورِ اکرمﷺ نے اس کے لیے دعا کی اور جنازہ کی نماز پڑھی تو ممانعت کی آیات نازل ہوئیں اگر وہ شیعہ عقائدِ کفریہ نہیں رکھتے تو ان کے لیے ایصالِ ثواب کرنا درست ہے، اس صورت میں زید کو امام بنانا جائز ہے اور جھگڑا کرنا منع ہے اور موجبِ فتنہ ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے اجرت لے کر ایصالِ ثواب کرنا گناہ ہے، اس سے بھی رکنا ضروری ہے اگر زید اس کو ترک نہ کرے تب بھی اس کی امامت مکروہ ہے۔ 

(فتاویٰ محمودیہ: جلد9 صفحہ249)