نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فدائیت و جاں نثاری
علی محمد محمد الصلابیجب قریش کے لوگ دار الندوہ میں اکٹھا ہوئے اور نبی کریمﷺ کے قتل اور آپؓ کے صفایا کرنے پر متفق ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو اس سازش سے آگاہ کر دیا اور رسول اللہﷺ اللہ کی مخلوق میں سب سے بڑے حکیم و دانا تھے۔ چنانچہ آپﷺ نے سوچا کہ جو لوگ آپ کو قتل کرنے آئے ہیں ایسا کیوں نہ ہو کہ وہ آپ کے نکلنے کا انتظار کرتے رہیں، اور بستر ہی دیکھتے رہ جائیں، چنانچہ نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ آج رات وہ میرے بستر پر رات گزاریں، دشمن خانۂ نبوی کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور نبی کریمﷺ کی تاک میں گھات لگائے بیٹھا ہے کہ آپ کب نکلیں اور وہ آپ کو قتل کردے، آپ غور کریں کہ ایسے وقت میں بستر نبوی پر سونے کی جرأت کون کرسکتا ہے؟ اور کون ہے جو یہ جاننے کے باوجود کہ ہم دشمن کے نرغہ میں ہیں اور بستر رسول پر جو بھی رہے گا بلاتفریق اسے قتل کردیا جائے گا، پھر بھی وہ جان جوکھوں میں ڈالے گا؟ بلاشبہ کوئی بہت بڑا جرأت مند بہادر ہی اسے کرسکتا ہے؟
(الحکمۃ فی الدعوۃ إلی اللہ: القحطانی: صفحہ 235)۔
حضرت علیؓ کو نبی کریمﷺ اپنے بستر پر چھوڑتے ہوئے یہ حکم دے گئے کہ ابھی کچھ دن مکہ میں ٹھہرے رہو تاکہ دشمنان مکہ کی جو امانتیں آپﷺ کے پاس رکھی ہوئی ہیں، انھیں صحیح سالم ان تک پہنچا دو، یقیناً یہ کمال عدل اور ادائیگی امانت کی بہت بڑی دلیل ہے۔
(الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 22، تاریخ الخلفاء: السیوطی: صفحہ 166)۔
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ سے کہا کہ میرے بستر پر سو جاؤ اور میری اس حضرمی چادر کو اوڑھ لو، تمھیں ان (کفار) کی طرف سے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔
(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 236، سیرۃ ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 91)1۔
حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ موسیٰ بن عقبہ نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے کہ پھر حضرت علیؓ بستر رسول پر سو گئے اور قریش کے لوگ رات بھر چہ میگوئیاں اور سازشیں کرتے رہے کہ بستر پر سونے والے پر حملہ کون کرے اور اسے کون باندھے گا؟ اس طرح صبح ہوگئی اور انھوں نے دیکھا کہ بستر رسول پر حضرت علیؓ موجود ہیں، سب نے حضرت علیؓ سے رسول اللہﷺ کے بارے میں پوچھا، آپ نے جواب دیا کہ مجھے علم نہیں، تب سب کو یقین ہوگیا کہ نبی کریمﷺ گھر سے نکل چکے ہیں۔
(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 236)۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اس رات حضرت علیؓ نے نبی کریمﷺ کی چادر اوڑھ کر اور آپﷺ کی جگہ پر سو کر اللہ کے ساتھ اپنی جان کی تجارت کی تھی۔
(فضائل الصحابۃ: اثر نمبر 1168) اس کی سند حسن ہے۔)
سچ ہے کہ علی اور ان جیسے دیگر مجاہدین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو کہ صرف اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی چاہتے تھے انھیں کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّشۡرِىۡ نَفۡسَهُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِوَ اللّٰهُ رَءُوۡفٌ بِالۡعِبَادِ ۞ (سورۃ البقرة آیت 207)
ترجمہ: اور یقین کرو وہ بہت برا بچھونا ہے، اور (دوسری طرف) لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جان کا سودا کر لیتا ہے، اور اللہ (ایسے) بندوں پر بڑا مہربان ہے۔