عقیدہ امامت اور باہمی مناقشت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عقیدہ امامت اور باہمی مناقشت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

سیدنا حسینؓ شہیدِ کربلا کے بعد شیعوں میں ہولناک اختلافات برپا ہوئے اور ہر امام کی وفات کے بعد ایک نئے اختلاف کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے چنانچہ:

پہلا اختلاف:

سیدنا حسینؓ کے بعد رونما ہوا اور جو لوگ خفیہ طور پر عقیدہِ امامت کی تبلیغ کرتے تھے، ان کے چند فرقے ہو گئے ایک گروہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما دونوں کی امامت کا منکر ہو گیا ان کا کہنا تھا کہ اگر سیدنا حسنؓ کی مصالحت سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ جائز تھی تو یزید بن معاویہ کے مقابلہ میں سیدنا حسینؓ کا خروج نا جائز تھا اور اگر سیدنا حسینؓ کا خروج جائز تھا تو سیدنا حسنؓ کی مصالحت سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ نا جائز تھی۔ 

نوبختی اپنے رسالہ فرق الشیعہ میں لکھتے ہیں:  

پس در کار آن دو در گمان شدند و از امامت آنان باز کشتند و در گفتار با تودئہ مردم هم داستان گردیدند۔  

(فرق الشیعہ: صفحہ47) 

ترجمہ: یہ لوگ ان دونوں بزرگوں کے متضاد طرزِ عمل سے بدگمان ہو گئے اور ان دونوں کی امامت سے پھر گئے اور عقیدہ میں عام لوگوں کے ساتھ ہم داستان ہو گئے۔