آغا خانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ ہمارے شہر کٹک میں ایک شخص اطراف بمبئی کا باشندہ قوم سے خوجہ سوداگر رہتا ہے، اپنے آپ کو سر آغا خان کا مرید اور پیر ظاہر کرتا ہے، اتفاق سے اس کے ہاں ایک میت ہوگئی تاجر مذکور نے اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہا، اس پر یہاں کے مسلمانوں میں کچھ کشمکش پیدا ہو گئی ہے۔
ایک فریق کی رائے ہے کہ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں ہرگز دفن نہ کیا جائے، کیونکہ سر آغا خان دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور اپنی رائے کی تائید میں امور ذیل پیش کرتا ہے:
1: سر آغا خان کی تصویر کی پرستش کرتا ہے۔
2: ہندوؤں کے مشہور اور تار کرشن کی مورت اپنے عبادت خانہ میں رکھ چھوڑی ہے۔
3: دیوالی جو ہندوؤں کا مشہور تیوہار ہے اس میں اپنے حساب کا بھی کھاتہ تبدیل کرتا ہے، علاوہ اس کے اور بھی بعض مراسم مشرکانہ ادا کرتا ہے مثلاً
4: اپنے کھاتہ کے ابتداء میں بجائے: بسم اللہ الرحمن الرحیم کے لفظ: اوم لکھتا ہے۔
5: سر آغا خان کے اندر خدائی حلول کا معتد ہے۔
مسلمانوں کا دوسرا فریق کہتا ہے کہ وہ کلمہ گو ہے، اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، اس کو کسی طرح کافر نہیں کہہ سکتے خود تاجر صاحب سے جو دریافت کیا گیا تو اس نے بھی بیان کیا کہ میں مسلمان ہوں کلمہ پڑھتا ہوں، عیدین کی نماز تم لوگوں کے ساتھ مل کر ادا کرتا ہوں مسلمانوں کی ضروریات میں چندہ دیتا ہوں، فرق صرف یہ ہے کہ میں سر آغا خان کو اپنا رہنما اور مرشد سمجھتا ہوں جیسے عام طور پر مسلمان کسی نہ کسی پیر کے مرید ہوا کرتے ہیں۔
اور فریق اول اس تمام بیان کو تاجر مذکور کی ضرورت اور مصلحت وقت پر محمول کرتا ہے۔ اب حضور سے چند امور دریافت طلب ہیں:
سوال اول: سر آغا خانیوں کے متعلق حضور کی کیا تحقیق ہے، ان کو شرعاً مسلمان کہیں گے یا کافر؟
سوال دوم: اگر کافر ہیں تو تاجر مذکور کا اپنی صفائی میں یہ پیش کرنا کہ میں مسلمان ہوں، کلمہ گو ہوں وغیرہ وغیرہ، اس بیان سے اس کو مسلمان سمجھا جائے گا یا نہیں؟
سوال سوم: اگر نہیں تو ایک مدعی اسلام کی تکفیر کیسے ہو سکتی ہے؟ کافر اور مسلمان ہونے کا آخر معیار کیا ہے؟
سوال چہارم: بعض یہی خواہانِ قوم کا خیال ہے کہ گو تاجر مذکور شرعی نقطہ نگاہ اسلام سے خارج ہوا لیکن اس وقت ہم مسلمانوں کو اتحادی قومی اور ترقی کی ضرورت ہے، لہٰذا ایسے جھگڑے بکھیڑوں کو نکالنا مناسب نہیں، یہ وقت نازک ہے، سب مدعیانِ اسلام کو مسلمان کہنا اور سمجھنا چاہیے، ان کو اسلام سے خارج کر کے اپنی تعداد اور مردم شماری کو گھٹانا نہیں چاہیے یہی خواہاں قوم اور ہمدردان اسلام کا یہ خیال شرعاً کسی قدر وقعت رکھتا ہے؟
سوال پنجم: سر آغا خانیوں کے معتقدات کا خواہ اسلام روا دار ہو یا نہ ہو سر دست یہ امر حل طلب ہے کہ خصوصیت کے ساتھ تاجر موصوف کا بیان اور دعویٰ اسلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کو کافر کہیں گے یا مسلمان سمجھیں گے؟ اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ دی جائے؟ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟
سوال ششم: جو نام نہاد مولوی تاجر مذکور کی میت کی نمازِ جنازہ پڑھتے اور اس کو مسلمان کہتے اور کہلواتے ہیں اور اس میں کوشش کرتے ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟
نوٹ: اسی اثنا میں گجراتی زبان میں ایک استفتاء دستیاب ہو گیا جس میں ان کے عقائد اور طریقہ نماز کا تذکرہ موجود ہے، مزید بصیرت کے لیے منسلک لفافہ یہ ہے:
(طریقہ نماز یا اصول دعا تعلیم کردہ آغا خان)
نماز پڑھو، نماز پڑھو، نماز پڑھو، خدا تم کو برکت دے خدا کا نام لو، خداوند شاہ علی تم کو ایمان اور اخلاق دے، یا شاہ علی میری شام کی نماز اور دعا قبول کر، جو حق تم کو ملا میں اس کا واسطہ دیتا ہوں، اے ہمارے آقا آغا سلطان محمد شاہ! اس کے بعد سجدہ کرو، اور اگر رات کی نماز ہو تو اس طرح کہو، میری شام کی اور رات کی دعائیں، اگر صبح کی نماز ہو تو میری شام کی، رات کی اور صبح کی دعائیں، اس کے بعد سجدہ کرو، اور تسبیح پڑھو اور حسبِ ذیل طریقہ پر دعا و درود پڑھو:
تسبیح: میں اپنے گناہوں پر پچتاتا ہوں دو مرتبہ، میں سر سے پاؤں تک تیرا قصور وار اور گنہگار ہوں، اے غفور رحیم شاہ میرا گناہ معاف کر، پیر تیری ہی عبادت کرتے ہیں، بندہ دعا مانگتا ہے، اے سچے شاہ! تو منظور رکھنے والا ہے، میں شاہ کے اس فرمان کو سر اور آنکھوں پر رکھتا ہوں جو پیر کے ذریعہ مجھ کو ملا ہے، یہ کہہ کر تسبیح زمین پر رکھ دو اور نیچے بتایا ہوا ورد کرو: اشهد سبحان الله الحمد لله لا اله الا الله اكبر لا حول ولاقوة الا بالله العلى العظيم الرحمٰن ذی الجلال والاكرام۔
ان تمام صفتوں سے بنا ہوا قدوس، سب پر طاقت ور خدا، ایران کے ضلع چالدیا میں انسان کا جسم لے کر ستر باپ کی پیٹھ سے نکلا، انہتر خدا ہو جانے کے بعد سترہویں اوتار کے نطفہ سے اڑتالیسواں امام، دسواں بے عیب اوتار ہمارا خداوند آغا سلطان محمد شاہ داتا، اس کے بعد سجدہ کرو، حق شاہ اچھا، دنیا اور زمین کا شاہ خلیفہ، اور گدی کے جانشینوں کے نام کا وظیفہ کرو، دنیا اور زمین کے اچھوں کا نام یہ ہے، شاہ کے خلیفہ ابو طالب ولی کا نام حسب ذیل ہیں:
1: ہمارا سچا خداوند شاہ علی
2: ہمارا سچا خداوند شاہ حسین
3: ہمارا سچا خداوند شاہ زین العابدین
4: ہمارا سچا خداوند شاہ محمد باقر
5: ہمارا سچا خداوند شاہ جعفر
6: ہمارا سچا خداوند شاہ اسماعیل
7: ہمارا سچا خداوند شاہ محمد ابی اسماعیل
8: ہمارا سچا خداوند شاہ رفیع احمد، بکذا الی 46،
47: ہمارا سچا خداوند شاہ آغا علی
48: ہمارا سچا خداوند شاہ آغا محمد شاہ داتا۔
اور اس وقت کی امامت کا مالک خداوند زمان امام شیخ المشائخ امامت کی طاقت رکھنے والا مانو، آغا سلطان محمد شاہ داتا، بے شمار کروڑوں آدمیوں کا دستگیر، اس وقت کی امامت کا مالک، اے شاہ جو حق تم کو ملا ہے بہ طفیل اس کے اپنے حضور میں میری دعا منظور کرائے، ہمارے خداوند آغا سلطان محمد شاہ منقول از رسالہ تقویۃ الایمان بزبان گجراتی۔
جواب: اول چند مقدمات مہمد کرتا ہوں:
الف: قال الله تعالىٰ: لَـقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ الخ۔
(سورۃ المائدہ: آیت 17)
ب: قال الله تعالىٰ: مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنۡۢ بَحِيۡرَةٍ وَّلَا سَآئِبَةٍ وَّلَا وَصِيۡلَةٍ وَّلَا حَامٍ وَّلٰـكِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡـكَذِبَ الخ۔
(سورۃ المائدہ: آیت 103)
ج: قال الله تعالىٰ: وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ الخ۔
(سورۃ ہود آیت 113)
د:قال رسول الله: من صلى صلاتنا واستقبل قبلتنا واكل ذبيحتنا فذلك المسلم۔
ہ: قال رسول اللہ: آية المنافق ثلاث رواہ الشیخان زاد مسلم وان صیام وصلى وزعم انه مسلم۔
و: عن حذيفة قال ان النفاق كان على عهد رسول الله فاما اليوم فانما هو الكفر او الايمان۔
ز: فی اللمعات فی شرح الاحاديث اى الحکم بعدم التعرض لاهله والستر عليهم كان على عهد رسول اللہﷺ لمصالح كانت مقتصرة على ذلك الزمان اما اليوم فلم تبق تلك المصالح فنحن ان علمنا انه كافر سرا قتلناه حتى يؤمن 1ھ۔
فی رد المحتار احكام المرتد تحت قول الدر المختار لان التلفظ بها صار علامة على الاسلام ما نصه افاد بقوله صار الى ان ما كان فی زمن الامام محمد تغیر لانهم فی زمنه ماكانوا يمتنعون عن النطق بها فلم تكن علامة الاسلام فلذا اشترطوا معها التبرى لها فی زمن قارى الهداية فقد صارت علامة الاسلام لانه لا يأتی بها الا المسلم الخ۔
ط: فی الدر المختار احكام غسل الميت و محل دفنهم كدفن ذمية حبلى من مسلم الخ۔
ی: فی مختصر المعانی بحث الاسناد ما نصه و قولنا فی التعريف بتأويل يخرج نحو مامر من قول الجاهل انبت الربيع البقل رانياً الا انبات من الربيع الخ فيه بحث وجوب القرينة للاسناد المجازى ما نصه وصوره عطف على استحالة اى او كصدوره عن الموحد فی مثل شاب الصغير، الخ۔
آیات و روایات و عبارات سے یہ امور مستفاد ہوئے:
اول: حلول کا قائل ہونا کفر ہے۔ (الآیۃ: 1)
ثانی: جو رسوم اور عادات کفار کے ساتھ ایسی خصوصیت رکھتے ہوں کہ بمنزلہ ان کے شعار کے ہو گئے ہوں اگر عرفاً شعار ہی سمجھے جاتے ہوں وہ بھی کفر ہیں۔ (الآیۃ: ب)
اسی اصل پر فقہاء کرام نے: شد زنار کو کفر فرمایا ہے ورنہ تشبہ بالکفار ہے جو مستلزم رکون الی الکفار ہونے کے سبب معصیت و حرام ہے۔ (الآیۃ: ج)
جس طرح عادات مخصوصہ با المسلمین دلیل اسلام ہیں۔ (الآیۃ: د)
بشرطیکہ کوئی یقینی دلیل کفر کی نہ ہو ورنہ کفر ہی کا حکم کیا جائے گا: لقوله تعالىٰ: اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَّخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا ۞
اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡـكٰفِرُوۡنَ حَقًّا الخ۔
(سورۃ النساء آیت 150، 151)
اور اسلام کی وجہ واحد کو کفر کی وجوہ متعددہ پر ترجیح اسی وقت ہے جب کہ وہ وجوہ کفر متحمل ہوں متعین نہ ہوں۔
ثالث: موجبات کفر کے ہوتے ہوئے محض دعویٰ اسلام و صلوٰۃ و صیام و استقبال بیتُ الحرام ترتب احکام اسلام کے لیے کافی نہیں، جب تک ان موجبات سے تائب نہ ہو جائے۔ (روایت: ہ)
رابع: باوجود ثبوتِ کفر کے اسلام ظاہر کرنے والوں کے ساتھ بناء بر مصالح اسلامیہ مسلمانوں کا سا برتاؤ کرنا کو بعض اوقات ان کے کفر کا بھی ظہور ہو جاتا تھا: كما نقل عنهم ولهم اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ الخ۔
(سورۃ البقرہ: آیت 13)
و نحوہ مخصوص تھا حضورِ اقدسﷺ کے عہد مبارک کے ساتھ، اب وہ حکم باقی نہیں رہا۔
(روایت و عبارت: ز)
بلکہ بعض احکام کے اعتبار سے خود حضورِ اقدسﷺ کے اخیر عہد میں معاملہ کالمسلمین میں تغیر ہو گیا تھا چنانچہ آیت: وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ الخ۔ (سورۃ التوبہ: آیت 84) میں مصرح ہے۔
والنهی عن الزيارة يستلزم النهی عن الدفن فی مقابر المسلمين لأن الدفن يستلزم الزيادة عادة البتہ تعرض بالقتل النهب: کی ممانعت باقی رہ گئی تھی۔
خامس:جو کافر اصولِ اسلامیہ کا بھی مقر ہو اس کے حکم بالاسلام کے لیے محض لفظ بکلمتی الشہادہ: کافی نہیں جب تک اپنی کفریات سے تبری کا اعلان نہ کرے۔ (عبارت: ح)
سادس: کافر کا مقابر مسلمین میں دفن کرنا جائز نہیں۔ (عبارت: ط)
سابع: جس شخص کا کفر ثابت ہو جائے اس کے اقوال افعال محتملہ الکفر والاسلام میں تاویل کرنے سے اس کا کفر مانع ہوگا۔ (عبارت: ی)
اب مقدمات کے بعد سب سوالات کا جواب ظاہر ہے مگر تبرعاً جدا جدا بھی عرض کرتا ہوں:
سوال میں دو قسم کے امور مذکور ہیں، ایک قسم وہ جو یقیناً موجبِ کفر ہے جیسے تصویر کی پرستش کرنا یا کرشن کی تصویر عبادت خانہ میں رکھنا جو شعار کفار کا ہے یا بجائے بسم اللہ کے لفظ: اوم لکھنا کہ یہ بھی ان کا شعار ہے یا حلول کا قائل ہونا جو اسلام کی تمہید اور ترکیب نماز کے آغاز میں مذکور ہے اور دوسری قسم وہ جو صرف محتمل کفر ہیں جیسے دیوالی سے بھی کھاتہ کا حساب شروع کرنا یا مقتداؤں کو لفظِ خداوند سے خطاب کرنا یا ان سے دعائیں مانگنا۔
بس قسم اول پر تو حکم بالکفر ظاہر ہے۔ (للامر الاول والثانی)
اور قسم ثانی کا صدور اگر مسلمان سے ہوتا تو اس میں تاویل کر کے مباح یا معصیت پر محمول کیا جاتا مگر جب اس کا صدور کافر سے ہے تو تاویل کی ضرورت نہیں۔ (للامر السابع)
اور ان کفریات کے ہوئے کہ ایسے شخص کا دعویٰ اسلام کافی نہیں ہے نہ اس کا نمازی اور روزہ دار ہونا کافی ہے نہ اس پر جنازہ جائز ہے نہ مقابر مسلمین میں دفن کرنا جائز ہے۔ (للامر الثالث والسادس)
اور نہ مصلحت کے سبب کافر کو مسلمان کہنا یا اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کرنا جائز ہے۔ (للامر الرابع الخامس)
البتہ بلا ضرورت کسی سے لڑائی جھگڑا کرنا بھی نہ چاہیے اور ایسے مصالح کی بناء پر ایسی رعایت کرنا ان مصالح سے زیادہ مفاسد کا موجب ہو جاتا ہے کیونکہ وہ مصالح تو محض دنیوی ہیں اور مفاسد دینیہ ان مفاسد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ان کفریات کے ہوتے ہوئے کسی کو مسلمان کہا جائے گا تو ناواقف مسلمانوں کی نظر میں ان کفریات کا قبح خفیف ہو جائے گا اور وہ آسانی سے ایسے گمراہیوں کے شکار ہو سکیں گے تو کافروں کو اسلام میں داخل کہنے کا انجام یہ ہوگا کہ وہ بہت سے مسلمان اسلام سے خارج ہو جائیں گے کیا کوئی مصلحت اس مفسدہ کی مقاومت کر سکے گی؟ ایسے ہی مصالح و مضار کے اجتماع کا یہ فیصلہ فرمایا گیا ہے: قال الله تعالىٰ: قُلۡ فِيۡهِمَآ اِثۡمٌ کَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثۡمُهُمَآ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا الخ۔
(سورۃ البقرہ: آیت 219)
وقال الله تعالىٰ: يَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّهٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّـفۡعِهٖ الخ۔
(سورۃ الحج: آیت 13)
(جواہر الفقہ: صفحہ 184)
