شیعہ نے خلافت کے بارے میں سیدنا علیؓ کی طرف سے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کی اقتداء اور بیعت کو بھی تقیہ کی آڑ میں چھپانا چاہا جب انہیں مشکل کشا، حاجت روا کہا جاتا ہے اور ہر چیز پر ان کی قدرت کا عقیدہ سامنے آتا ہے تو یہ بنیاد بھی مسمار ہو جاتی ہے سوال ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے اگر تقیتاً خلفائے ثلاثہؓ کی بیعت کر لی تھی تو تقیہ کی چادر نواسہِ رسول سیدنا حسینؓ نے کیوں نہ اوڑھ لی؟ وہ تقیہ کو مسترد کر کے کیوں کر یزید سے نبرد آزما ہوئے؟ وہ بھی تقیہ کی چادر اوڑھ کر خود سمیت اپنے بچوں کو شہید ہونے سے بچا سکتے تھے حقیقت تو یہ ہے کہ جھوٹ، فریب، من گھڑت افسانوی نظریوں کو نہ تقیہ کے لبادے میں چھپایا جا سکتا ہے، نہ انہیں اہلِ بیتؓ کے تقدس کی آڑ میں کسی صاحبِ عقل و رائے سے منوایا جا سکتا ہے دنیا کی جدید ترقی اور فہم و ادراک کے نئے نئے راستوں کی دریافت کے بعد اب تو شیعہ کو اپنے عقیدہِ امامت کے بارے میں ہونے والی اونچ نیچ، زمانوں کی بو قلمونی، خود ساختہ نظریات کی غیر موزونیت، بعض افسانہ طرازوں اور کذاب راویوں کی چالبازیوں کا کھلے عام اسی طرح اعتراف کر لینا چاہیے جس طرح عراق کے ممتاز عالم اور جامع نجف اشرف کے امام و خطیب کے صاحبزادے ڈاکٹر موسیٰ موسوی نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب اصلاح الشیعہ میں کیا ہے ڈاکٹر موسیٰ نے غیر معقول اور ناقابلِ فہم مذکورہ عقائد کو شیعہ مذہب کی بنیادی اساس کے خلاف ایک سازش قرار دے کر عقیدہِ امامت اور بارہویں امام کی آمد کی 300 سو سال بعد مرتب کی جانے والی جملہ روایات کو خود ساختہ قرار دیا ہے۔