شیعہ کے عقیدہِ امامت کی عمارت ایک مرتبہ پھر اس وقت زمین بوس ہو گئی، جب سیدنا حسنؓ نے منصبِ خلافت پانے کے چھ ماہ بعد ہی یہ بار بھی اپنے کاندھوں سے اتار کر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے کاندھے پر رکھ دیا یوں نہ صرف یہ کہ عقیدہِ امامت کا سارا ڈھانچہ ہی تحلیل ہوا، بلکہ اقتدار اور امامت کے لیے بھی خاندانِ نبوت کو مکمل طور پر معزول کر دیا گیا شیعہ کے عقیدہِ امامت کے یہ ابتدائی تضادات ہیں، جن کے سامنے شیعہ کے عقائد کا سارا محل پیوندِ خاک ہو جاتا ہے اماموں کے بارے میں ایک مشکل کشا، حاجت روا، عالم الغیب اور ہر چیز پر قادر ہونے کا عقیدہ، پھر انہیں منصبِ خلافت سنبھالنے کے بارے میں ایسا عاجز و درماندہ قرار دینا کہ وہ چھ ماہ بعد ہی ایسے مجبور ہو گئے کہ انہیں بارِ امارت بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کے سپرد کرنا پڑا۔