رافضی پر نماز جنازہ پڑھنا - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

رافضی پر نماز جنازہ پڑھنا


سوال: رافضی کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونا کیسا ہے؟ یہ لوگ مسلمان ہیں یا نہیں؟ 

جواب: رافضی جو بعض قطعیاتِ اسلام کے خلاف کا عقیدہ رکھے، مثلاً: حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگا کر، یا حضرت علیؓ کو معبود سمجھے، وہ قطعاً کافر ہیں، اور جو ایسے نہیں، اس کے متعلق فتویٰ یہی ہے کہ کافر نہیں پس جو لوگ ان میں سے بلاشبہ کافر ہیں، ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت ہرگز جائز نہیں، اور جو لوگ قطعاً کافر نہیں، ان کے جنازے میں شرکت جائز ہوگی۔ 

قال الله تعالىٰ: وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ وفی المحيط البرهانی لان الصلوٰة على الميت دعاء واستغفار والاستغفار للكافر حرام۔ 

وفی الشامية نعم لا شك فی تكفير من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق او اعتقد الالوهية فی علی او ان جبرئيل عليه السلام غلط فی الوحی ونحو ذلك من الكفر الصريح۔ 

(امداد المفتین جامع: جلد  6 صفحہ  114)